ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
’’انشاء اللہ‘‘ کہہ دیا کرتے تھے۔ والدہ اس کو سمجھا جاتیں اور کہتیں ’’تیرا انشاء اللہ جھوٹا ہے‘‘۔ یہی قصہ صدام حسین کے انشاء اللہ کا ہے۔ حقیقی انشاء اللہ اپنے آپ کو اللہ کے پیچھے چلانے کا نام ہے۔ لیکن اکثر لوگ خود اللہ کو اپنے پیچھے چلانے کے لئے انشاء اللہ کا کلمہ کہہ دیتے ہیں۔ ۱۸ اپریل ۱۹۹۱ ایک منظر دیکھ کر خیال آیا کہ ۔۔۔ ایک دنیا کی جنت ہے اور ایک آخرت کی جنت۔ دنیا کی جنت کو حاصل کرنے کے لئے ہر آدمی ہوشیاری دکھاتا ہے۔ مگر آخرت کی جنت کی خاطر کوئی ہوشیاری دکھانے والا نہیں۔ آج کی عارضی جنت کے معاملہ میں ہر آدمی آخری حد تک ہوشیار ہے۔ اور کل کی ابدی جنت کے معاملہ میں ہر آدمی آخری حد تک بے وقوف۔ ۱۹ اپریل ۱۹۹۱ ایک مسلم نوجوان ملاقات کے لئے آئے۔ وہ مراد آباد کے کسی کالج میں پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نصیحت کیجئے۔ میں نے کہا کہ آپ یہ طے کر لیجئے کہ آپ کو ہر حال میں فرسٹ کلاس سے پاس ہونا ہے۔ اگر آپ کا سیکنڈ کلاس آئے تو سمجھے کہ میں فصیل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکنڈ کلاس پاس ہونا بھی تو پاس ہونا ہے۔ میں نے کہا کہ سیکنڈ کلاس پاس ہونے والا اسکول کے رجسٹر میں پاس ہوتا ہے۔ مگر وہ زندگی میں فصیل ہو جاتا ہے۔ آپ رجسٹر کو دیکھ رہے ہیں جو اسکول کی الماری میں بند ہو کر رہ جائے گا۔ میں آپ کے مستقبل کو دیکھ رہا ہوں جس سے ساری عمر آپ کا سابقہ پیش آنے والا ہے۔ ۲۰ اپریل ۱۹۹۱ قرآن میں یہود سے کہا گیا ہے کہ ولا تشتروا بایاتی ثمناً قلیلا (البقرہ 41) اس کی مختلف تفسیریں کی جاتی ہیں۔ میرے خیال سے اس کا مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔ دین کا استغلال نہ کرو۔ خدا کے دین کو ذاتی مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ۔ ’’نیا عہد نامہ‘‘ میں یہودی علماء کے بارہ میں ہے کہ یہ لوگ نا جائز نفع کی خاطر ناشائستہ باتیں سکھا کر گھر کے گھر تباہ کر دیتے ہیں (طبیٹس ۱: ۱۱) قدیم زمانہ میں کوئی شخص اپنی عملیات کے ذریعہ ایک گھر کو تباہ کر سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ایک شخص رادیو اور ٹیلی وژن کے لئے پروگرام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader