ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
ملک اور بعض اوقات پوری دنیا کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہندوستان میں اس کی ایک مثال بابری مسجد کے نام پر اٹھنے والے مسلم لیڈر ہیں اور عالمِ اسلام کی سطح پر "قبلہ اول" کے نام پر اٹھنے والے لیڈر۔ ۲۱ اپریل ۱۹۹۱ فجر کی نماز نظام الدین بستی کی قریش مسجد میں پڑھی۔ فراغت کے بعد مسجد کے باہر نکلا تو میرے ساتھ مولانا عبداللہ طارق صاحب بھی نکلے۔ سامنے نظر آیا کہ بستی کے دو مسلمان ایک بوجھ سے دودھ کی تھیلیاں لئے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ مولانا عبد اللہ طارق نے ان سے کہا: بھائی ہمارے لئے بھی ایک تھیلی لے لینے۔ وہ دونوں کوئی جواب دیئے بغیر آگے بڑھ گئے۔ میں نے مولانا عبداللہ طارق سے پوچھا۔ کیا نظام الدین بستی میں کوئی ایسا مسلمان ملے گا جو اپنے دودھ کے ساتھ آپ کے لئے بھی روزانہ ایک تھیلی دودھ لا دیا کرے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اب دوسرا قصہ سنئے ۔ ہمارے یہاں ایک لڑکا روزانہ صبح کو دودھ لاتا تھا۔ وہ چلا گیا۔ چنانچہ ہمارے یہاں دودھ آنا بند ہوگیا۔ ہمارے ایک ہندو پڑوسی مسٹر پرمود بترا کی اہلیہ مسز بترا روزانہ اپنا دودھ خود دلاتی ہیں۔ انھوں نے ایک بوجھ کی لائن میں ہمارے یہاں کے لڑکے کو نہیں دیکھا۔ انھوں نے ٹیلیفون کرکے میری اہلیہ سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے۔ میری اہلیہ نے بتایا کہ ہمارا لڑکا چلا گیا ہے۔ اس لئے آجکل ہمارے یہاں دودھ نہیں آ رہا ہے۔ اس کے بعد سے مسز بترا اپنا دودھ لینے جاتی ہیں تو وہ مزید دو تھیلی دودھ لیتی ہیں اور پھر اپنے ملازم کے ذریعہ ہر روز صبح کو ہمارے یہاں بھیجتی ہیں۔ ہندو اور مسلمان کے اس فرق کے سبب پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو ایک با مقصد قوم ہیں اور موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے سامنے کوئی مقصد نہیں۔ ہندو کا مقصد ہے پیسہ کمانا۔ مسلمانوں کا کوئی بھی سوچا سمجھا ہوا مقصد نہیں ۔ جب آدمی شعوری طور پر ایک مقصد کو اپنائے تو اس کی نسبت سے اس کے اندر کچھ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اوصاف اصلاً اپنے لئے ہوتے ہیں۔ مگر جب وہ پیدا ہوتے ہیں تو ان کا ایک حصہ دوسروں کو بھی مل جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader