Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سو آدمیوں کی نماز با جماعت اس وقت قائم ہوتی ہے جب ان کے ۹۹ افراد پچھلی سیٹ پر جانے کے لئے راضی ہو جائیں ۔ اس طرح ملت کا احیاء اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ مسلمانوں کی بیشتر تعداد اسی پر راضی ہو جائے کہ وہ پچھلی صف میں رہ کر اپنے حصہ کا عمل کرے گی۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان اس پر راضی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان احیائے ملت کا کوئی موڑ کام بھی اب تک نہ ہو سکا۔ اس صورتحال کی ذمہ داری زیادہ تر موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین پر ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے ان کے اندر فخر کا ذہن پیدا کیا۔ دین کی افضلیت پر فخر، تاریخ کی عظمت پر فخر، اپنے خیر امت ہونے پر فخر۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان شدت کے ساتھ فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے۔ اور فخر و ناز کی نفسیات اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کسی قوم میں اتحاد ہمیشہ تواضع کی نفسیات سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ فخر کی نفسیات سے۔ ۲۳ اپریل ۱۹۹۱ اقبال نے اپنی آخر عمر میں اپنے بارہ میں فارسی کا یہ شعر کہا تھا : سرود رفته باز آید کہ نہ یید نسیمی از حجاز آید کہ نہ یید سر آمد روزگار ایں فقیرے دگر داناۓ راز آید کہ نہ یید میرا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ شاید میری عمر پوری ہوگئی اور موت کا وقت قریب آگیا۔ میرے احساسات کی ترجمانی اردو شاعر کے اس شعر میں ہوتی ہے: صبح گزری شام ہونے آئی میر تو نہ چیتا اور بہت دن کم رہا۔ کوئی آدمی "داناۓ راز" تھا یا نہ تھا، اس کا انحصار ذاتی یقین پر نہیں ہے، بلکہ خدا کی تصدیق پر ہے۔ جب تک خدا ظاہر ہو کر اپنی رائے نہ دے دے اس وقت تک ہر آدمی کا معاملہ مشتبہ ہے۔ حقیقت وہ ہے جو خدا کے ذہن میں ہے نہ کہ وہ جو انسان اپنے ذہن میں پا رہا ہو ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page