ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر شن سنگھ تقسیم سے پہلے نیشنل کالج (لاہور) میں انگلش کے استاد تھے۔ ۱۹۴۷ء میں وہ انڈیا آ گئے۔ یہاں وہ دیال سنگھ کالج (دہلی) کے انگلش ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہو گئے۔ اب وہ ریٹائر ہو کر پٹیل نگر میں رہتے ہیں۔ ان سے میری ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ ہندو لیڈر اور حکمران ان کو صرف بے وقوف بناتے ہیں۔ کسی کو ان سے ہمدردی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہندوستانی لیڈروں سے یہ امید کیوں کرتے ہیں۔ یہ طے ہے کہ وہ آپ کا استحصال کریں گے : Surely they will exploit you. یہ بلاشبہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اور یہ صرف ہندو لیڈروں کی بات نہیں ، یہی اس دنیا کا قاعدہ ہے۔ یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں یہی ہو گا کہ ہر ایک دوسرے کو ایکسپلائٹ کرنا چاہے گا ، خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی یا مسلمان۔ اس دنیا میں کوئی شخص یا گروہ صرف اہمیت کی بنیاد پر زندہ رہ سکتا ہے نہ کہ رعایت اور تحفظ کی بنیاد پر۔ ۲۵ اپریل ۱۹۹۱ لاہور کے روز نامہ وفاق (۱۹ اپریل) کے صفحہ اول پر ایک خبر ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد صاحب نے جماعت اسلامی کے مرکزمنصورہ (لاہور) میں ۱۸ اپریل کو ایک تقریر کی۔ اس میں انھوں نے کہا ؛ یہ دور ملت اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ کا دور ہے۔ اور عالم اسلام کے اندر بیداری کی جو لہر بڑھ رہی ہے وہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں امت مسلمہ ایک بار پھر دنیا کی قیادت و امامت کے منصب پر سرفراز ہوگی۔ اور جس طرح ماضی میں کفر کی سپر پاورز مٹ گئیں اسی طرح اس دور کی سپر پاورز بھی نیست و نابود ہو جائیں گی۔ اور صرف اللہ کا حکم روئے زمین پر نافذ ہوگا۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ عالم اسلام کے نوجوانوں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت پیدا ہو چکا ہے اور وہ فلسطین ، فلپائن اور افغانستان اور کشمیر میں غلبۂ اسلام کے لئے کفر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader