ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
کی قوتوں سے نبرد آزما ہیں۔ یہی وہ جھوٹی خوش فہمیاں ہیں جن کو قرآن میں امانی کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے غلبہ کا امکان دعوت کے راستے سے کھلتا ہے نہ کہ مذکورہ قسم کی قومی لڑائیوں سے جن کو غلط طور پر جہاد کہا جاتا ہے۔ ۲۷ اپریل ۱۹۹۱ء پاکستان کے اخبار نوائے وقت کا شمارہ ۲۱ اپریل ۱۹۹۱ میرے سامنے ہے۔ یہ اقبال کی یاد کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔ صفحہ اول پر ڈاکٹر یوسف حسین خاں کا ایک اقتباس حسب ذیل ہے: " ۱۹۳۷ء میں جب لاہور میں انڈین ہسٹاریکل ریکارڈ کمیشن کا اجلاس ہوا تو میں عثمانیہ یونیورسٹی کے نمائندہ کی حیثیت سے اس میں شریک ہوا۔ اس موقع پر مجھے ڈاکٹر اقبال کے پاس دو مرتبہ حاضری کا موقع ملا اور ان سے تفصیلی گفت گو بھی رہی۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کی طرف سے بے حد متفکر تھے اور کہتے تھے کہ جب تک ان کی علیحدہ مملکت نہ ہوگی ، ان کا دین و تمدن خطرے میں رہے گا"۔ " ۱۹۳۷ء میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ دینی زوال کا شکار تھے۔ مگر اس وقت مسلمانوں کے تمام رہنما مسلمانوں کے سیاسی زوال کو ان کا اصل مسئلہ سمجھتے تھے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ بعد کو اگرچہ مسلمانوں نے سیاسی استقلال حاصل کر لیا مگر ان کے مسائل بدستور باقی رہے۔ کیونکہ جڑ میں جو خرابی تھی اس کی اصلاح نہ ہوسکی۔ ۲۷ اپریل ۱۹۹۱ء ہر قوم پر بعد کے زمانہ میں زوال آتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں پر بھی زوال آچکا ہے۔ اب ان میں دوبارہ دینی بیداری لانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ زوال کی جس سطح پر پہنچ چکے ہیں، اسی سطح پر انہیں دین کا ایک ایڈیشن دے دینا۔ دوسرے یہ کہ ان کی سطح کو بلند کرنا اور پھر بلند سطح والا دین انھیں دینا۔ پہلا کام نہایت آسان ہے۔ اس میں فوراً مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ دوسرا کام انتہائی مشکل ہے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader