ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
میں بہت دیر لگتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مصلحین نے یہ کیا کہ انھوں نے مسلمانوں کی شعوری سطح کو بلند کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ وہ جس شعوری سطح پر تھے اس سطح پر ان کو اسلام کا ایک ایڈیشن دے دیا۔ اس طریقہ میں مقبولیت تو ملتی ہے مگر اس سے ملت کا حقیقی احیاء ممکن نہیں۔ ۲۸ اپریل ۱۹۹۱ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ڈبل ایم اے ہیں۔ انھوں نے الرسالہ جنوری 1991 کے صفحہ ۳۴ - ۳۵ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ مسلمانوں کو ایک طرفہ صبر کی تلقین کر رہے ہیں۔ مگر حال میں میں نے ایک کتاب پڑھی۔ وہ آپ کے نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ جنگ (war) کے بارہ میں ایک کتاب تھی۔ مصنف نے لکھا ہے کہ جنگ میں ارادہ جنگ (Will to fight) کی بے حد اہمیت ہے۔ اگر دشمن کی فوج سے ارادہ جنگ کو ختم کر دیا جائے تو وہ لڑے بغیر ہار جائے گی۔ مثلاً ۱۱۹۷۱ میں مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں پاکستان کی ۹۰ ہزار فوج موجود تھی۔ مگر انڈیا نے اس کے مرکز (مغربی پاکستان) سے اس کا تعلق کاٹ دیا۔ اس کے بعد اس نے لڑنے کا حوصلہ کھو دیا۔ اور کافی تعداد اور ہتھیار کے باوجود سرینڈر کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان اگر آپ کے مشورہ کے مطابق کامل صبر کا طریقہ اختیار کریں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کے اندر لڑنے کا حوصلہ ہی ختم ہو گیا۔ پھر تو یہ خودکشی کے ہم معنی ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ ایک اصول کو غلط منطبق کر رہے ہیں۔ یہاں ہم ہندوں سے برسر جنگ نہیں ہیں۔ ہم جس مسئلہ سے دوچار ہیں وہ نفرت کا مسئلہ ہے نہ کہ جنگ کا مسئلہ۔ مختلف اسباب سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ اس فضا کو ہمیں ختم کرنا ہے تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا قائم ہو جائے۔ موجودہ حالات میں یہ معتدل فضا دو طرفہ بنیاد پر قائم نہیں ہوسکتی۔ اس لئے میں کہتا ہوں ہم ایک طرفہ اقدام کر کے اس فضا کو ختم کر دیں۔ مزید یہ کہ نفرت کی اس فضا کا تعلق صرف ہندوؤں سے نہیں ہے۔ وہ خود مسلمانوں میں بار بار پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر اس کا حل نعرہ او نہیں ہوتا بلکہ اعراض اور خوش تدبیری اس کا حل ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader