ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
تو خوب ہوا مگر اسلام کا کوئی حقیقی کام اب تک نہ ہوسکا۔ اس کی ایک تازہ عبرت ناک پاکستانی اخبار نوائے وقت (۲۲ اپریل ۱۹۹۱) میں نظر آئی۔ پاکستان میں اس وقت ”اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت ہے جس کے وزیر اعظم نواز شریف ہیں۔ اس حکومت نے شریعت بل ۱۹۹۱ پیش کیا ہے جو اس وقت قومی اسمبلی کے سامنے ہے۔ مذکورہ اخبار میں اس کی بابت وزیر اطلاعات ملک سلیم اقبال کا مضمون چھپا ہے جس میں اس بل کو ”ایک تاریخ ساز قدم“ بتایا گیا ہے۔ دوسری طرف اسی اخبار کے صفحہ اول پر یہ خبر ہے کہ ”دینی وسیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر سرکاری شریعت بل مسترد کر دیا۔“ خبر میں بتایا گیا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ میں نو جماعتوں کا اجتماع ہوا۔ اس میں شریعت بل کو دھوکا بتا کر اتفاق رائے سے اس کو رد کر دیا گیا۔ اس فیصلے میں جماعت اسلامی پاکستان بھی شریک ہے جو اسلامی اتحاد پارٹی میں شامل تھی اور جس نے الیکشن کے وقت اس کو اسلام کی طرف تاریخی قدم بتایا تھا۔ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ ریاض کے عربی ہفت روزۃ الدعوة (۱۱ شوال ۱۴۱۱ھ ، ۲۵ اپریل ۱۹۹۱) میں صفحہ ۲۸۔ ۲۹ پر فتادی نقل کئے گئے ہیں۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جو لوگ بظاہر مسلمان ہیں مگر اپنے اندر نفاق لئے ہوئے ہیں، وہ اگر اسلام پر حملہ کریں تو اس کے جواب میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ الشیخ محمد بن صالح العثیمین نے اس کا جو جواب دیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ منافقین سے جہاد کا فروں سے جہاد کی مانند نہیں ہے۔ کیوں کہ منافقین سے جہاد علم اور تسلم سے ہوتا ہے اور کافروں سے جہاد تلوار اور تیر کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ وھو المراد من جہاد المنافقین، ليس كجہاد الکفار لان جہاد المنافقین یکون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader