ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم مئی 1991 دو آدمیوں کے درمیان ایک مہینہ سے جھگڑا چل رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو غلط بتا رہے تھے۔ ایک چاہتا تھا کہ دوسرا شخص معافی مانگے۔ دوسرا کہتا تھا کہ پہلے شخص کو معافی مانگنا چاہئے۔ میں نے ان میں سے ایک شخص کو بلا کر سمجھایا۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ غلطی کس کی ہے۔ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ مسئلہ کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر تمہارے دو لفظ بولنے سے جھگڑا ختم ہو جاتا ہو تو تم کو بلاتا تاخیر ایسا کرنا چاہئے۔ اس کے بعد وہ شخص دوسرے آدمی کے پاس گیا۔ اس نے کہا کہ " بھائی ! مجھ سے غلطی ہوگئی ، مجھے معاف کر دو" اس کے بعد فوراً جھگڑا ختم ہو گیا۔ ۲ مئی 1991 قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم اس کو پہچان لو گے (سيريكم آيا ته فتعرفونها ( النمل ٦٣) قرطبی نے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ اللہ کی قدرت اور وحدانیت کے دلائل جو تمہارے اندر اور آسمان و زمین کے اندر ہیں راہی دلائل قدرته و وحدانيته في انفسكم وفى السماوات والأرض، الجامع لاحكام القرآن، ۴۴۶/۱۳ موجودہ زمانہ کی بہت سی سائنسی ایجادات اس آیت کی تصدیق کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ مثلاً ٹیلیویژن اس بات کا مظاہرہ ہے کہ آدمی کے قول و عمل کا ریکارڈ کائنات میں موجود ہے۔ ریموٹ کنٹرول اس بات کا مظاہرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح غیر مرئی طور پر ہر چیز کو کنٹرول کر رہا ہے ۔ وغیرہ۔ اسی طرح بعض لسانی چیزیں بھی غالباً اس کے مصدقات میں شامل ہیں۔ مثلاً قدیم زمانہ میں آخرت کا تصور صرف اجمالی طور پر ممکن تھا۔ اب زبان کی ترقی کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آدمی اس کو صحت لفظ کے ساتھ بیان کر سکے۔ مثلاً دنیا اور آخرت کے فرق کو بتانے کے لئے یہ کہنا کہ ــــــــ دنیا امپرفیکٹ ہے اور آخرت پرفیکٹ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader