Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

مئی کے تیسرے ہفتہ میں ہندوستان کی مرکزی پارلیمنٹ کے لئے الیکشن ہونے والا ہے۔ آج ہمارے سامنے کے پارک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ۔۔۔۔۔ کا انتخابی جلسہ تھا۔ ایل کے ایڈوانی تقریر کے لئے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۸۴ میں ہمارے صرف دو ممبر پارلیمنٹ میں تھے۔ ۱۹۸۹ کے الیکشن میں ہمارے ۸۶ آدمی منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچے۔ اس بار ہم نے ۲۰۰ آدمیوں کو اس کے لئے کھڑا کیا ہے۔ ۲ سے ۸۶ تک پہنچنے کو انھوں نے اپنے دیوتا " شنکر بھگوان" کے خانہ میں ڈالا۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تر مسلمانوں کی بابری مسجد تحریک کے خانہ میں جاتا ہے۔ مسٹر جناح نے ۱۹۴۲ سے پہلے مسلم نیشنلزم کی تحریک چلا کر ہندو نیشنلزم کو جگایا۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ میں بابری مسجد کے نام پر شہاب الدین نے دوبارہ مسلم نیشنلزم کی تحریک چلا کر ہندو نیشنلزم کو آخری حد تک بیدار کر دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اکتوبر ۱۹۹۰ میں ہم نے سومناتھ یاترا چلائی تو دو لاکھ ہندو نکل کر ہمارے ساتھ ہو گئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس بھیڑ کو دیکھ کر غلط فہمی میں نہ پڑنا۔ یہ لوگ ہمارے نام پر نہیں بلکہ رام کے نام پر جمع ہوئے ہیں۔ میں نے سوچا کہ مولانا مودودی نے پاکستان میں شوکت اسلام اور غلاف کعبہ کا جلوس نکالا۔ اس میں لاکھوں آدمی جمع ہو گئے۔ مگر وہ یہ نہ کہہ سکے کہ یہ بھیڑ اسلام اور کعبہ کے نام پر جمع ہوئی ہے نہ کہ ہماری جماعت کے نام پر۔ اس معاملہ میں وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے۔ ۴ مئی ۱۹۹۱ تسلیم احمد خاں ایڈوکیٹ (سردھنہ) ملاقات کے لئے آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں ۱۹۸۶ سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ میرے اندر شروع سے فرقہ وارانہ ذہن نہیں تھا۔ میں ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا۔ چنانچہ سردھنہ میں مجھے نگر پالیکا کے الیکشن میں ہندو ووٹوں سے کامیابی ہوئی۔ میری اس پالیسی کو مسلمان برا کہتے تھے۔ اس بنا پر میں بھی اس احساس میں مبتلا رہتا تھا کہ میں بزدل ہوں اور بزدلی کی بنا پر ایسا کر رہا ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page