Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر الرسالہ نے میرے اس احساس کو ختم کر دیا۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بزدلی کی بات نہیں یہ پرنسپل کی بات ہے۔ اس کے بعد میرے اندر نیا یقین اور نئی جرات پیدا ہو گئی۔ صحابہ رسول یا اصحاب رسول کا مطلب عام طور پر " صحبت یافتگان رسول " سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ اس کا اصل مطلب ہے رفتار رسول ۔ یعنی رسول کا ساتھ دینے والے ، رسول کی حمایت و معاونت کرنے والے۔ رسول کے ساتھ اپنے کو وابستہ کرنے والے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاحب مشن آدمی تھے۔ جب بھی کوئی شخص کسی ماحول میں ایک مشن کا آغاز کرتا ہے تو کچھ لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں ، اور کچھ لوگ اس کا ساتھ نہیں دیتے ۔ جو لوگ ایسے آدمی کا ساتھ دیں اور اس کے مشن میں شریک ہو جائیں وہ اس کے اصحاب یافتار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر اہل ایمان اسی معنی میں آپ کے ساتھی تھے اس لئے وہ آپ کے اصحاب کہلائے۔ ۶ مئی ۱۹۹۱ شفیق احمد کشمیری (بک بیل، سرینگر) ملاقات کے لئے آئے۔ کشمیر پر گفت گو کرتے ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ دو سال پہلے کشمیریوں کی تشد دانہ تحریک شروع ہوئی ۔ یہ تحریک پاکستانی حکومت کے وعدہ پر شروع ہوئی تھی۔ انھوں نے کشمیری لیڈروں سے کہا کہ آپ لوگوں کو ہم ہتھیار دیتے ہیں۔ آپ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے خلاف متشد دانہ کارروائی کر کے اندرونی طور پر گڑ بڑ پیدا کریں۔ اس کے بعد ہم اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر دیں گے اور کشمیر آزاد ہو جائے گا۔ مگر دو سال گزر گئے اور اس دوران ہزاروں کشمیری خاندان تباہ ہو گئے ۔ کشمیر کی پوری اقتصادیات بر باد ہو گئی۔ امن وامان بالکل ختم ہو گیا۔ مگر پاکستان نے حملہ نہیں کیا۔ اب کشمیری لیڈر اسلام آباد گئے تاکہ حکومت پاکستان کا وعدہ انھیں یاد دلائیں تو انھوں نے فوج اور وزیر اسے صاف انکار کر دیا۔ شفیق احمد صاحب نے یہ بتاتے ہوئے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page