ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل بات یہ نہیں ہے کہ پاکستان نے آپ کو دھوکا دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ نے پاکستان سے دھوکا کھایا۔ ڈاکٹر انوار الحق اعظمی دہلی آئے تھے۔ وہ چند دن جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں ٹھہرے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ وحید الدین خاں نے یہ غلطی کی کہ وہ جماعت اسلامی سے نکل گئے۔ اگر وہ جماعت اسلامی میں رہتے تو آج وہی جماعت کے امیر ہوتے۔ جماعت اسلامی کے افراد کی زبان سے یہ بات میں بار بار سن رہا ہوں۔ مگر میرا خیال اس کے بالکل برعکس ہے۔ جماعت اسلامی (یا اس قسم کی کسی بھی جماعت کا) امیر بننے کو میں اپنے لئے موت سمجھتا ہوں۔ اور جماعت کے باہر اپنی موجودہ حالت کو زندگی خیال کرتا ہوں۔ اگر میں جماعت اسلامی میں رہتا اور اس کا امیر بنا دیا جاتا تو یہ صرف اس قیمت پر ہوتا کہ میرے ذہن کے فکری امکانات خوابیدہ رہتے۔ اس کے بعد میرے ذہن میں ان تخلیقی افکار کی پیدائش ہی نہ ہوتی جو پچھلے ۲۰ سال کے دوران ہوئی اور رسالہ اور کتابوں کے ذریعہ لوگوں تک پہنچی۔ کسی جماعت کا امیر یا کسی حکومت کا سربراہ کبھی تخلیقی افکار پیش نہیں کر سکتا۔ اس قسم کے عہدے ہمیشہ تنظیمی عہدے ہوتے ہیں۔ ان عہدوں پر پرسنلائز ہونے کے بعد آدمی ایک طرح کا مشینی انسان بن جاتا ہے نہ کہ وہ زندہ انسان جو حقائق کے سمندر میں اترے اور تخلیقی نوعیت کے افکار مرتب کر سکے۔ ۸ مئی ۱۹۹۱ بابو جگجیون رام ہریجنوں کے ایک بڑے لیڈر تھے۔ غالباً ۱۹۷۰ء میں جمیعت علماء کے زیرِ انتظام دہلی کی عید گاہ میں مسلمانوں کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں بابو جگجیون رام کو بھی بلایا گیا تھا انھوں نے ایک پرجوش تقریر کی۔ انھوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: حقوق مانگے نہیں جاتے، حقوق لئے جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader