ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
آف انڈسٹریز میں ملازم ہیں (7989-332 Phone) وہ نہ صرف نماز روزہ کے پابند ہیں بلکہ باقاعدہ داڑھی بھی رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بہت سے واقعات بتائے جس سے معلوم ہوا کہ ہندو افسران ان کا نہایت احترام کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ڈیوٹی کے حد درجہ پابند ہیں۔ میں ذاتی طور پر تعصب کا قائل نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تعصب کے وجود کو نہیں مانتا۔ میرا کہنا ہے کہ تعصب ہر سماج میں لازماً موجود رہتا ہے۔ مگر آدمی اپنے عمل کے ذریعہ تعصب کو غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔ شفیع صاحب کی زندگی اس کی ایک مثال ہے۔ ۷ جنوری ۱۹۹۱ ڈاکٹر کرشن کانت کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ کل میں نے ہندوستان ٹائمز میں آپ کا آرٹیکل اجودھیا کے مسئلہ کے بارے میں پڑھا۔ مجھ کو بہت پسند آیا۔ انھوں نے کہا کہ اب سید شہاب الدین صاحب بھی ‘نالشی’ کی بات کو مان رہے ہیں جس کی تجویز آپ نے، ۲ مارچ، ۱۹۷۸ کو پیش کی تھی۔ اور دوبارہ اب اس کو دہرایا ہے۔ میں نے کہا کہ یہی شہاب الدین تھے جنھوں نے ۱۹۷۸ میں اس تجویز کو چلنے نہیں دیا۔ اب جب ساری بات بگڑ گئی تو اب وہ اس تجویز کو ماننے کی بات کر رہے ہیں۔ مگر اب اس کو ماننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ( فون نمبر ڈاکٹر کرشن کانت 6847711 ) ۸ جنوری ۱۹۹۱ ٹائمز آف انڈیا ( ۷ جنوری ۱۹۹۱ ) میں نیشنل فورم فار پیس اینڈ انٹیگریشن کی ایک میٹنگ کی رپورٹ ہے۔ اس میں موجودہ وزیر اعظم مسٹر چندر شیکھر بھی شریک تھے۔ چندر شیکھر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہر مذہب بھائی چارہ سکھاتا ہے : یہ سن کر مولانا سید موسوی نے کہا کہ بھائی چارہ بہت اچھی چیز ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ ایک بھائی سوچنے لگے کہ دوسرا بھائی اس کے لئے چارہ ہے۔ اسٹیج کے مسلمان مولانا موسوی کے اس تبصرہ سے خوش ہو گئے۔ مگر میرے نزدیک مولانا موصوف کا یہ تبصرہ محض ایک سطحی لطیفہ ہے نہ کہ واقعہ کوئی کہنے کی بات۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader