Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

جگجیون رام کا یہ جملہ مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا۔ مگر یہ صحیح بات نہ تھی۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ــــــ حقوق مانگے نہیں جاتے، حقوق کی استعداد پیدا کی جاتی ہے۔ موجودہ ڈائری کے ۲۵ مارچ ۱۹۹۱ کے صفحہ میں میں نے ذکر کیا تھا کہ لکھنؤ کا ماہنامہ الفرقان میرے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی مہم میں شریک ہو گیا ہے۔ اس وقت یہ بات میں نے "فکر کی غلطی" کا اشتہار چھاپنے پر لکھی تھی۔ مگر اب اس کا شمارہ اپریل ۱۹۹۱ آیا تو اس میں نے دیکھا کہ "فکر کی غلطی" کا ایک پورا باب اس میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ باب الفرقان میں ”تبلیغی تحریک اور مولا نا وحید الدین خان کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں تبلیغی جماعت کا مخالف ہوں مگر زمانہ شناسی (۴۸) کی بنا پر اس کی تائید کرتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ یہ حضرات تنقید کو مخالفت کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ ان کے مذہب میں یا کامل تعریف ہے یا کامل مخالفت۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں تبلیغی جماعت کو کارِ نبوت کا احیاء" نہیں سمجھتا۔ البتہ اس کو ایک مفید تحریک سمجھتا ہوں۔ اس بنا پر میں بعض پہلوؤں سے اس کی تائید کرتا ہوں۔ اور بعض پہلوؤں سے اس کی تنقید۔ ۱۰ مئی ۱۹۹۱ دہلی سے ایک ہندی ماہنامہ منقن نکلتا ہے۔ ڈاکٹر ایم سی شرما اس کے ایڈیٹر ہیں۔ آج وہ ملنے کے لئے آئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امکانات دسویں الیکشن (مئی ۹۱) میں کیا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام پر الیکشن لڑارہی ہے۔ اور بھارت کی جنتا کے لئے رام میں اپیل کی ایک حد ہے۔ اس لئے زیادہ امکان یہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تیسرے نمبر پر آئے۔ ڈاکٹر شرما خود بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک خاص آدمی ہیں۔ ان کی زبان سے یہ حقیقت پسندانہ بات سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ مجھے یاد آیا کہ پاکستان میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی زیر قیادت جماعت اسلامی نے چار بار الیکشن میں حصہ لیا۔ ہر بار انھیں تقریباً پانچ فیصد ووٹ ملے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page