ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
اور وہ صرف چند سیٹیں حاصل کر سکے۔ مگر مولانا مودودی کی زبان سے کبھی یہ نہیں نکلا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں "اسلام" کے نعرہ کی اپیل محدود ہے اور ہم کو ایک محدود طبقہ ہی کا ووٹ مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس انھوں نے یہ کیا کہ ہر بار جب وہ الکشن میں ہارے تو انھوں نے یہ کہہ دیا کہ برسراقتدار طبقہ کی دھاندلی کی وجہ سے ہم ہار گئے۔ اگر منصفانہ الکشن ہوتا تو ہماری جیت یقینی تھی۔ اس قسم کے تقابلی واقعات بار بار میرے علم میں آئے ہیں۔ ان سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو قوم زیادہ جاندار ہے۔ 11 مئی 1991 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں کسی شخص کو اتنی تکلیف نہیں دی گئی جتنی تکلیف مجھ کو دی گئی۔ (مَا أُوذيَ فِي اللَّهِ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوذِيتُ) اس طرح کی اور بھی روایتیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہاں جس اذیت کا ذکر ہے اس سے مراد جسمانی اذیت نہیں ہے بلکہ ذہنی اذیت (منٹل ٹارچر) ہے۔ یہ ذہنی اذیت جو آپ کو پہنچی، وہ عین سنت الہی کے مطابق تھی۔ اور یہ نبی کے لئے بھی ہے اور غیر نبی کے لئے بھی۔ اس کا راز یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جو ربانی احساسات چھپا ر کھے ہیں ان کو بیدار کرنے کا واحد ذریعہ ہی "ذہنی اذیت" ہے۔ انسان کے ذہن میں جتنا زیادہ طوفان برپا ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کے ربانی احساسات جاگیں گے۔ نبی کے سلسلہ میں یہ مطلوب ہوتا ہے کہ اس کے ربانی احساسات آخری حد تک بیدار کئے جائیں۔ اس لئے اس کو عام انسانوں سے زیادہ ذہنی اذیت کا تجربہ کرایا جاتا ہے۔ 12 مئی 1991 کسی کے فضل کا اعتراف کرنا خدا کا اعتراف کرنا ہے۔ اور کسی کے فضل کا اعتراف نہ کرنا خدا کا اعتراف نہ کرنا ہے۔ اس دنیا میں جب بھی کوئی چیز کسی کو ملتی ہے تو وہ اس کے لئے خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس کا اعتراف نہ کریں انھوں نے گویا خدا کے فیصلہ کو نہیں مانا۔ اور اس سے زیادہ برا کون ہوگا کہ خدا ایک فیصلہ دے اور وہ خدا کے فیصلے کو ماننے سے انکار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader