Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

کر دے۔ حجر بن عدی بن جبله الکندی (م ۵۱ھ)، ایک صحابی تھے۔ انھوں نے امیر معاویہ کی خلافت پر بیعت نہیں کی۔ امیر معاویہ نے ان کو کوفہ سے دمشق بلایا۔ وہاں وہ امیر معاویہ کے حکم سے قتل کر دئے گئے۔ دوسری طرف عبداللہ بن عمر بھی ایک صحابی تھے۔ انھوں نے بھی امیر معاویہ کی خلافت پر بیعت نہیں کی۔ مگر امیر معاویہ نے ان کو قتل نہیں کرایا بلکہ آزاد چھوڑ دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ بن عمر نے اگرچہ امیر معاویہ کے اوپر بیعت نہیں کی۔ مگر وہ اس معاملہ میں خاموش رہتے تھے۔ وہ امیر معاویہ کے خلاف کوئی سیاسی بیان نہیں دیتے تھے۔ جب کہ حجر بن عدی بالاعلان امیر معاویہ کے مخالف تھے۔ وہ امیر معاویہ کے خلاف خفیہ سرگرمیوں میں شریک تھے۔ ۱۴ مئی ۱۹۹۱ لاہور کے ماہنامہ حکمت قرآن کے شمارہ مئی ۱۹۹۱ میں مولانا محمد تقی امینی (۱۹۹۱-۱۹۲۶) کے بارہ میں ایک مضمون چھپا ہے۔ مضمون نگار مولانا سعود عالم قاسمی لکھتے ہیں کہ ایک بار علی مروجہ میں مصر کے سابق حکمراں جمال عبدالناصر اور الاخوان المسلمون پر بات چل نکلی۔ مولانا کا کہہ گئے کہ اخوان نے جمال کی حکومت چھیننا چاہی، تو جمال نے اخوان کو مٹانا چاہا۔ معاملہ برابر کا تھا۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ مولانا، تو پھر حضرت موسیٰ نے فرعون کی حکومت چھیننا چاہی اور فرعون نے ان کے قتل کی سازش کی۔ یہ معاملہ بھی برابر کا رہا۔ اس پر مولانا بہت ناراض ہوئے صفحہ ۵۷ مضمون میں نہ مولانا تقی امینی کی طرف سے کوئی وضاحت تھی اور نہ "حکمت قرآن" کے ایڈیٹر کی طرف سے کوئی نوٹ۔ حالانکہ مضمون نگار کی یہ بات لغویت کی حد تک غلط ہے۔ اخوان کے معاملہ میں تو یہ ثابت ہے کہ انھوں نے جمال عبدالناصر کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہا۔ مگر حضرت موسیٰ کے بارہ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں۔ حضرت موسیٰ نے تو فرعون سے یہ اجازت طلب کی تھی کہ مجھ کو بنی اسرائیل کے ساتھ ملک مصر سے باہر جانے دے۔ پھر فرعون کو اس کے اقتدار سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page