Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

ہٹانے کا کیا سوال۔ انڈیا ٹوڈے (۱۵ مئی ۱۹۹۱) میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ایک بات چیت شائع ہوئی ہے۔ اس کے مطابق، مسٹر گری لال جین نے ہندوستانی مسلمانوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان خود اپنی بے وقوفی کا شکار ہیں۔ وہ غیر معمولی حد تک بیوقوف لوگ ہیں۔ وہ ایک ایسے ڈھانچے کے لئے لڑ رہے ہیں جو اپنے مسجد ہونے کی حیثیت کو ختم کر چکا ہے : The Muslims are victims of their own stupidity. They are extraordinarily stupid people... To fight for a structure which has ceased to be a mosque! (p. 137) انڈیا ٹوڈے کے اسی شمارہ میں بتایا گیا ہے کہ آجکل سارے ملک میں مسلم مخالف نعرے لگ رہے ہیں۔ کھلَم کھلّا کہا جارہا ہے کہ بابر کی اولاد سے کہو کہ اگر بھارت میں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہنا ہوگا“۔ (صفحہ ۱۳۳) ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ کے بعد سے مسلسل ملک میں اسی قسم کا ماحول ہے۔ مگر اس اشتعال انگیزی کے باوجود مسلمان مشتعل نہیں ہو رہے ہیں۔ اس لئے فساد بھی بہت کم ہو رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ فساد کا واحد چیک اعتراض ہے۔ مسلمان بطور اصول تو اعراض کا اختیار نہ کر سکے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ عملی دباؤ کے تحت بطود مجبوری اس کو اختیار کر لیں گے۔ ۱۶ مئی ۱۹۹۱ گہری باتوں کو سمجھنے والے بھی دنیا میں نہیں ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے کہاں ملیں گے؟ ایک صاحب سے میں نے کہا۔ انھوں نے جواب دیا کہ جب آپ کا تاثر یہ ہے تو آپ لکھتے کیوں ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اپنے دل کا بوجھ اتارنے کے لئے لکھتا ہوں۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ کتابوں کو پڑھتے ہوئے یا دنیا کا مشاہدہ کرتے ہوئے کچھ خیالات میرے ذہن میں وارد ہوتے ہیں۔ انھیں خیالات کو میں قلمبند کر لیتا ہوں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو یہ خیالات میرے ذہن پر ایک بوجھ بنے رہیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ کوئی خدا کا بندہ ان باتوں کو پڑھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page