Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ان کے ذریعہ وہ سچائی کو پاسکے۔ اس طرح گویا میں مستقبل میں آنے والے کسی شخص کے لئے سیڑھی کے پیچھے نیچے زینے تیار کر رہا ہوں۔ رات کو ۱۲ بجے طرابلس سے محمد سلیمان القائد کا ٹیلی فون آیا۔ ان کے علاوہ برادر صالح اور برادر یوسف نے بات کی۔ یہ ایک حیران کن واقعہ ہے کہ محمد سلیمان القائد اردو ایک لفظ نہیں جانتے، مگر ہمارے مشن کو انہوں نے جتنا سمجھا ہے اتنا شائد کسی اردو داں نے بھی اب تک نہیں سمجھا۔ پچھلی ملاقات میں محمد سلیمان القائد نے مجھ سے کہا تھا کہ اس کو میں ایک معجزہ الہی سمجھتا ہوں کہ اس نے میرے دل میں آپ کی محبت ڈال دی۔ بات بلاشبہ صحیح ہے۔ وہ ایک عرب ہیں۔ نہایت باصلاحیت آدمی ہیں۔ ان کے سامنے مادی ترقی کے لئے بہت سے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ مگر وہ دل و جان سے ہمارے مشن میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ خدائی معاملہ ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مشن کے لئے وہ 'لینن' ثابت ہوں گے۔ پچھلی ملاقات میں ان سے کہا: انت کليْن فى هذہ الرسالة ۔ ۱۸ مئی ۱۹۹۱ ٹائمس آف انڈیا (۱۸ مئی) کے سنڈے سکشن میں مسٹر خوشونت سنگھ (۷۶ سال) کا انٹرویو چھپا ہے۔ وہ اب بھی صبح ۴ بجے سو کر اٹھ جاتے ہیں۔ آخر میں ان سے سوال کیا گیا کہ اب وہ ریٹائر ہونے کی سوچ رہے ہیں تاکہ وہ ایک (relaxed life) گزار سکیں۔ مسٹر خوشونت سنگھ نے جواب دیا کہ اس سوال کا جو جو اب میں نے مسٹر برلا کو دیا تھا، وہی آپ کو دیتا ہوں۔ 'ریٹائر تو ہم شمشَان گھاٹ پر ہی جاکر ہوں گے۔' اس طرح کی بات جو لوگ کرتے ہیں وہ دراصل موت کے بارہ میں غیر سنجیدہ ہیں۔ موت کے مسئلہ سے غافل ہونے کی بنا پر وہ سمجھ رہے ہیں کہ موت کوئی آرام کرنے کا مرحلہ ہے۔ حالانکہ موت انسان کی زندگی کے سخت ترین مرحلہ میں داخلہ کا نام ہے۔ جو شخص موت کی واقعی نوعیت کو جانے اس کی زبان سے کبھی ایسا جملہ نہیں نکلے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page