Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

ابرار احمد خاں صاحب (٥٤ سال)، جملہ شاہی ضلع بستی کے رہنے والے ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ میں ڈکشنری کی مدد سے انگریزی پڑھ رہا ہوں ۔ تلفظ کے سلسلے میں عجیب عجیب لطیفے انھوں نے بتائے۔ انھوں نے انگریزی ڈکشنری میں delicious کا لفظ دیکھا۔ اس کے معنیٰ "لذیذ" لکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اس معنیٰ کو یاد کر لیا۔ مگر اس کا تلفظ انھیں خود متعین کرنا تھا۔ انھوں نے اس کا تلفظ ڈیلی کیوز کیا اور اس کو رٹ کر یاد کر لیا۔ ایک بار ان کی ملاقات شہر بستی میں ایک دوست سے ہوئی۔ وہ انگریزی کا ٹیچر تھا۔ وہ ان کو ہوٹل میں لے گیا اور ان کے لئے چائے بسکٹ منگوائے۔ انھوں نے چائے اور بسکٹ نہیں لیا۔ دوست نے کہا کہ یہ بسکٹ لیجئے، یہ بہت ڈیلی شش ہیں۔ انھوں نے جوں کہ delicious یاد کر رکھا تھا۔ انھیں دوست کے "ڈیلی شش" کہنے پر غصہ آگیا۔ انھوں نے کہا کہ تم انگریزی کے استاد ہو اور delicious کا تلفظ بھی نہیں جانتے۔ اس کا صحیح تلفظ ڈیلی شش نہیں، ڈیلی کیوز ہے۔ "علم کی یہ قسم آج کی دنیا میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ آدمی نہیں جانتا، اس کے باوجود وہ یقین کئے ہوئے ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے۔ ۲۰ مئی 1991 آج رات کو درمیان میں نیند کھلی۔ انہی میں لیٹا ہوا تھا اور اسی حال میں ایک مضمون کی بابت غور کر رہا تھا۔ دماغ میں یہ جملہ آیا ـــــ سیاست کو حالات کے تابع رکھنا، اور بقیہ معاملات میں اسلام پر بھرپور عمل کرنا، یہی اسلام کی پالیسی ہے۔ میں لیٹے لیٹے اس بات کو اپنے ذہن میں دہرا رہا تھا کہ اسی درمیان جھپکی آگئی۔ اس وقت ایک لمحہ کے لئے محسوس ہوا کہ میرے داہنے کان میں کسی نے آہستہ آواز میں کہا کہ ٹھیک ہے۔ صبح کو میں اپنے دفتر میں تھا کہ بے اختیار یہ دعا زبان سے نکلی ـــــ یا اللہ میرے پاس جنت کا عمل نہیں، مگر میرے پاس جنت کی تمنا ہے۔ میں آپ سے جنت کی بھیک مانگتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page