ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
وتنسيق کی مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدماء زندہ لوگ تھے اور آجکل کے لکھنے اور بولنے والے مردہ لوگ۔ ابن جوزی کی دو کتابیں مجھے کو بہت پسند ہیں ـــــ تاریخ عمر بن الخطاب ، اور سیرۃ و مناقب عمر بن عبد العزیز : الخلیفۃ الزاہد ۔ میری خواہش ہے کہ میں ان دونوں کتابوں کا اردو ترجمہ کروں ۔ اور پھر پہلی کتاب کو عمر اول ، اور دوسری کتاب کو عمر ثانی کے نام سے شائع کروں۔ صحابہ کی جماعت میں ایک ایک آدمی ہیرو تھا۔ تاہم عمر فاروق کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔ وہ یہ کہ ان کی زندگی ایک پر از واقعات زندگی (eventful life) ہے۔ ان کی زندگی میں ہر قسم کے واقعات جمع ہو گئے ہیں۔ شاید کسی اور صحابی کی زندگی میں اتنے زیادہ متنوع واقعات جمع نہیں ہوئے۔ عمر بن عبد العزیز کی خصوصیت یہ ہے کہ صحابہ کے بعد وہ مجھے پوری امت میں ٹاپ پر نظر آتے ہیں۔ ان کی زندگی کی سب سے زیادہ نمایاں صفت میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ ایک صاحب معرفت انسان تھے۔ خدا ان کے لئے ایک ڈسکوری تھا، نہ کہ کوئی تقلیدی ایمان۔ ابن جوزی نے اپنی کتاب (صفحہ ۸۱ - ۸۲) میں " نفس عمر تواقتۃ الی العلی " کے عنوان کے تحت جو روایتیں نقل کی ہیں وہ اس کا کافی ثبوت ہیں۔ عمر بن عبد العزیز کی دوسری خصوصی صفت یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق صحابہ کے بعد امت میں وہ آخری شخص ہیں جن کے اندر دعوت کا شعور کامل درجہ میں موجود تھا۔ ۲۵ مئی ۱۹۹۱ اصحاب رسول سے متعلق کچھ مضامین تیار ہوئے ہیں۔ وہ ان شاء اللہ الرسالہ ماہ ستمبر ۱۹۹۱ میں خصوصی نمبر کے طور پر شائع ہوں گے۔ اس نمبر کا نام ہو گا " عظمت صحابہ " اسی طرح ان شاء اللہ میں کتابوں کا ایک سیٹ تیار کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی ترتیب یہ ہو گی : ا عظمت رب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader