Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی ایک تلخ امتحان ہے۔ اس کو شیریں بنانے کی صورت یہ ہے کہ اس کو صرف امتحان سمجھا جائے، اس سے زیادہ اس کو کوئی حیثیت نہ دی جائے۔ ۳۱ مئی ۱۹۹۱ کانگریس کے موجودہ پر یسیڈنٹ مسٹر پی وی نرسمہاراؤ کافی پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ وہ تقریباً دس زبانیں جانتے ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان میں زندگی گزارنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ مل جل کر زندگی گزاری جائے: The only way to exist in India is to co-exist. یہ بلا شبہ نہایت صحیح بات ہے۔ ایک خاندان ہو، ایک قوم ہو یا ایک ملک ہو، ہر جگہ کامیاب زندگی بنانے کا یہی واحد اصول ہے۔ اس کے بغیر صرف ٹکڑاؤ ہوگا اور کوئی تعمیر ممکن نہ ہو سکے گی۔ یکم جون ۱۹۹۱ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ہندوؤں میں عورتوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ ۱۹۸۱ میں ایک ہزار مردوں پر ۹۳۳ عورتیں تھیں۔ ۱۹۹۱ میں ایک ہزار مردوں پر ۹۲۹ عورتیں ہیں۔ عورتوں کی تعداد میں کمی کا بڑا سبب دراصل جنس کو جانچنے کا وہ طریقہ ہے جس کو امینیوسنٹی لس (amniocentesis) کہا جاتا ہے۔ اس کا رواج ہندوؤں میں بہت بڑھ گیا ہے۔ ٹسٹ اگر لڑ کی بتاتا ہے تو حمل (foetuses) کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا، یکم جون ۱۹۹۱) ۲ جون ۱۹۹۱ ۲ مارچ ۱۹۹۰ کو دو صاحبان تشریف لائے تھے ۔ مولانا ولی رحمانی، مولانا احمد علی قاسمی۔ انھوں نے ہاشم القاسمی صاحب (حیدر آباد) کے معاملہ میں بات کی اور کہا کہ اس کو ختم کر دیں ۔ میں نے شروع سے آخر تک پورا قصہ بتایا۔ اس کو سن کر وہ لوگ بالکل خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد دوسری باتیں ہوتی رہیں۔ اور پھر وہ لوگ واپس چلے گئے۔ ہاشم القاسمی صاحب کو وہ لوگ اپنا آدمی سمجھتے ہیں۔ اپنے آدمی کی حمایت میں وہ لوگ یہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page