Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

آئے ۔ مگر جب میں نے انھیں حق بات بتائی اور حق ان کے سامنے آگیا تو حق کی حمایت کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوا ۔ "اپنے آدمی" کی حمایت سے وہ لوگ آشنا تھے ۔ مگر حق کی حمایت ان کے لئے ایک اجنبی چیز تھی ۔ یہ بھی ایک پہلو ہے اس حقیقت کا جس کو حدیث میں بتایا گیا ہے : بدء الاسلام غريبا وسيعود كما بدأ ۔ ۳ جون ۱۹۹۱ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے درمیان ایسی تحریک اٹھے جو حکومت الہیہ، احتساب عالم، امامت کبری، خلافت اسلامیہ جیسے بڑے بڑے مقاصد بتائے تو بہت سے مسلمان اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ایسی تحریک اٹھائی جائے جو خوف خدا ، احتساب خویش اور صبر وشکر جیسی چیزوں کی طرف دعوت دیتی ہو تو بہت کم مسلمان اس کی طرف توجہ دیں گے۔ یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ مسلمان اپنے زوال کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ ایسی حالت میں بڑے بڑے الفاظ بول کر ان کی بھیڑ جمع کرنا کوئی کام نہیں۔ بلکہ ان کے مرض میں اضافہ کرنا ہے۔ آج مسلمانوں کے درمیان صرف دوسرے ڈھنگ پر ہی کام کیا جانا چاہئے ، خواہ لمبی مدت تک غیر مقبولیت کی صورت حال کو برداشت کرنا پڑے۔ ۴ جون ۱۹۹۱ ۱۴ مارچ ۱۹۹۰ کو مولانا احمد علی قاسمی (آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت) ہمارے دفتر میں آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یکم فروری ۱۹۸۶ کو بابری مسجد کا تالا فیض آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم سے کھولا گیا تھا ۔ اتفاق سے ۲ فروری کو دہلی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس تھا۔ مولانا علی میاں اور مولانا منت اللہ رحمانی وغیرہ دہلی میں موجود تھے۔ اس خبر کے بعد ۲ فروری کو " بچوں کا گھر " میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو سڑک پر نہ لایا جائے ۔ اس کو عدالت کے دائرہ میں رہ کر طے کیا جائے ۔ اسی کے ساتھ ایک فنڈ بنایا گیا جس کا نام " بابری مسجد لیگل اینڈ فنڈ رکھا گیا۔ میں نے کہا کہ اس فیصلہ کے بعد مولانا علی میاں نے کیوں سید شہاب الدین کے " اجودھیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page