ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں : It's hard work, not a woman's work. (p. 52) بیسویں صدی کے نصف اول تک سارے مغرب میں جنون کے درجہ میں یہ نظریہ تھا کہ عورت اور مرد دونوں برابر ہیں۔ ہر کام جو مرد کرتا ہے وہ سب عورت بھی کر سکتی ہے۔ مگر اس صدی کے نصف آخر میں تجربات نے اس نظریہ کو بالکل باطل ثابت کر دیا۔ ۸ جون ۱۹۹۱ شاہ عبد العزیز دہلوی ( ۱۸۲۳ - ۱۷۹۲ )، بلند پایہ ہندوستانی عالم تھے۔ انھوں نے پہلی بار یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو گیا ہے۔ ان کا ایک شعر یہ ہے : وانی اری الا فرنج اصحاب ثروة لقد افسدوا مابین دھلی و کابل اور فرنگی جو دولت والے ہیں، ان کو میں دیکھتا ہوں کہ انھوں نے دہلی اور کابل کے درمیان بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ شاہ عبد العزیز صاحب کے نزدیک انگریزوں کی حیثیت صاحب ثروت (دولت مند) کی تھی۔ وہ جو کچھ کر رہے تھے، اپنی ثروت و دولت کے زور پر کر رہے تھے۔ حالاں کہ یہ بات صحیح نہیں۔ انگریز کی اصل حیثیت یہ تھی کہ وہ اصحاب علم تھے۔ وہ سائنسی علم کی طاقت پر آگے بڑھ رہے تھے۔ اس غلط تشخیص نے مغرب کے خلاف مسلمانوں کی پوری اسٹریجی کو غلط کر دیا۔ ۹ جون ۱۹۹۱ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شر الناس العلماء اذا فسدوا (لوگوں میں سب سے زیادہ برے علماء ہیں جب کہ ان میں بگاڑ آجائے)۔ علماء کا بگاڑ یہ ہے کہ ان کے پاس دین کا علم تو ہو مگر اللہ کا ڈر ان کے دلوں سے نکل جائے۔ ایسے لوگ بلاشبہ زمین کی سب سے بڑی مخلوق ہیں۔ متقی عالم اہل زمین کے لئے ایک رحمت ہے، اور بے خوف عالم اہل زمین کے لئے ایک مصیبت۔ خلیفہ چہارم علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اہل عراق کے بارہ میں فرمایا تھا کہ وہ ہر اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader