Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کے پیرو بن جاتے ہیں جو نہ زور سے بولنے والا ہو ( اتباع کل ناطق) یہ بات موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اصل کمزوری ہی یہی ہے کہ وہ بڑے بڑے الفاظ بولنے والوں کے پیچھے دوڑتے ہیں ۔ سنجیدہ اور ٹھوس پیغام دینے والا آدمی ان کے درمیان تنہا ہو کر رہ جاتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے جس کی بنا پر کوئی حقیقی قیادت ان کے درمیان ابھر سکی ۔ آج جھوٹے لیڈروں کی بھر مار ہے، مگر سچے لیڈر کا کہیں پتہ نہیں۔ کیوں کہ لیڈر عوام کا ساتھ دینے سے بنتا ہے، اور جب سچے لوگوں کو ساتھی نہ ملیں تو وہ لیڈر کیسے بن سکتے ہیں۔ ۱۱ جون ۱۹۹۱ مولانا ممتاز احمد قاسمی (مسجد بالوں گنج، شملہ)، اور مولانا عبد السبحان خاں (نالہ گڑھ، ہماچل پردیش) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم پابندی سے رسالہ پڑھتے ہیں اور ہم کو آپ کے نظریہ سے پورا اتفاق ہے۔ انھوں نے کہا کہ صبر اور اعراض کی پالیسی ہر قسم کے فسادات کے خلاف یقینی چیک ہے۔ اس سلسلہ میں اپنے کئی تجربات بتائے کہ کس طرح انھوں نے ٹکرائو کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کیا اور فساد ختم ہو گیا۔ مثلاً مولانا ممتاز صاحب نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک ہند وٹرک ڈرائیور نے ایک مسلمان کو مارا۔ اس کا پیسہ چھین لیا اور اس کے بعد ٹرک لے کر روانہ ہو گیا۔ خبر پھیلی تو مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا۔ اگر مسلمان جوابی کارروائی کرتے تو یقیناً ہندو مسلم فساد ہو جاتا۔ میں نے مسلمانوں کو روکا۔ اس کے بعد میں پولیس اسٹیشن گیا اور ایس ایچ او سے ملا۔ میں نے ہندو اور مسلم کی بات نہیں کی ، صرف واقعہ بتایا۔ ایس ایچ او نے کہا کہ ٹرک کا نمبر آپ کے پاس ہے میں نے کہا کہ نہیں۔ چیک پوسٹ پر ہر گز رنے والے ٹرک کا نمبر نوٹ کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایس ایچ او نے فوراً چیک پوسٹ سے ٹرک کا نمبر معلوم کیا۔ اس کے بعد اگلے پولیس اسٹیشن پر ٹیلیفون کر کے چار گھنٹہ کے اندر ٹرک کو پکڑ لیا۔ اس نے ٹرک ڈرائیور کو سزا دی اور اس سے پوری رقم وصول کر کے مسلمان کے حوالہ کی۔ اس کے بعد وہ اس پر کیس بھی کرنا چاہتا تھا۔ مگر میں نے کہا کہ ہمارا مقصد پورا ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page