Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

اب ہمیں اور کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ مشہور سعودی پرچہ "المجلة" کا شماره ۱۵-۲۱ ذوالقعدہ ۱۴۱۱ھ (۲۹ مئی - ۴ جون ۱۹۹۱ء) میرے سامنے ہے ، اس کے صفحہ ۹۰ پر ایک مضمون ہے جس میں عبد الرحمن الکواکبی (۱۹۰۲-۱۸۲۹ء) کا قول نقل کیا گیا ہے کہ امت مسلمہ کی مصیبت در اصل اس کے اوپر غیر قوموں کا سیاسی قبضہ ہے (ان بلاء هذه الامة هو التسلط السياسي) مگر یہ قبضہ اصلاً بلا نہیں ، وہ اصل بلا کا نتیجہ ہے۔ اصل بلا خود مسلمانوں کا تنزل ہے ۔ موجودہ مسلمان ایک زوال یافتہ قوم ہیں۔ اور زوال یافتہ قوم کا انجام وہی ہوتا ہے جو موجودہ مسلمانوں کا ہو رہا ہے ۔ ۱۳ جون ۱۹۹۱ء المجلة کے مذکورہ شمارہ میں ایک مضمون صدام حسین کے مسئلہ پر ہے۔ سعودی مضمون نگار هالة حمد المعجل کے نزدیک جس شخص نے عراقی حکمران صدام حسین کے کویت پر قبضہ کی حمایت کی، وہ خود بھی حقیقت کی نظر میں ظالم اور غاصب بن گیا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مجھ کو تو صرف ایک حقیقت معلوم ہے۔ وہ یہ کہ جب میں کسی مجرم کی کارروائیوں کی تائید کروں تو خواہ میرے پاس کتنا ہی عذر ہو ، میں خود بھی مجرم ہوں ( انى افهم حقيقة واحدة فقط - انى عندها أؤيد مجرماً فى تصرفاته مهما كانت تبريراتي فانا مجرمة ايضاً) اس عبارت میں مجھ کو صرف " ایضاً" سے اختلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے معاملات میں آدمی خود ہی مجرم ہوتا ہے نہ کہ خود بھی مجرم۔ ۱۴ جون ۱۹۹۱ء سعودی عرب کے ایک پرچہ میں جو ایڈیٹوریل (كلمة الى القارئ) چھپا ہے، اس کا عنوان خلاف توقع طور پر یہ ہے : "كلنا خطاؤون (ہم سب غلط کار ہیں) مضمون میں عربوں اور اتحادیوں پر ملامت کی گئی ہے۔ اور یورپ کے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page