ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
کے حلیف ہیں (وجمیعها اليوم حليف لعدو الامس) یہ ایک نیا ظاہر ہے جو خلیج کے بطن سے نکلا ہے۔ خلیج کے المیے سے پہلے عرب پر چھے صرف خارجی سازشوں کا انکشاف کرتے تھے۔ اب وہ داخلی احتساب کو بھی کام سمجھتے ہیں۔ یہ ایک اچھی علامت ہے۔ ۱۵جون ۱۹۹۱ بعد کے دور میں جو فقہی مذاہب بنے، ان میں حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کو زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں سے ہر ایک کے علماء کا کہنا ہے کہ انھیں کا فقہی مسلک صحیح ہے اور دوسرے مسلک غلط ہیں۔ تاہم چونکہ حدیث کی کتابوں میں ہر قسم کی روایتیں ہیں ۔ کسی روایت سے ایک مسلک کی تائید ہوتی ہے اور کسی روایت سے دوسرے مسلک کی۔ اس لئے ان میں سے کوئی مسلک کامل یقین کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس نزاکت کی بنا پر ایک فقیہہ نے فقہاب کی پوزیشن کو ان با معنی الفاظ میں ادا کیا ہے: مذہبنا صواب يحتمل الخطاء ومذهب غيرناخطاء يحتمل الصواب (ہمارا فقہی مذہب درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور دوسرے کا فقہی مذہب نادرست ہے احتمال صحت کے ساتھ۔ یہ تطبیق دین یسر کو دین عسر بنانا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسالک کا اختلاف تنوع کی بنا پر ہے نہ کہ اس بنا پر کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ ۱۶ جون ۱۹۹۱ ظفر علی خان بی اے ۸ جنوری ۱۸۷۸ء کو پیدا ہوئے، ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ء کو کرم آباد (پنجاب) میں ان کی وفات ہوئی۔ انھیں انگریزوں سے سخت نفرت اور دشمنی تھی ۔ وہ زندگی بھر نظم ونثر میں اس کا اظہار کرتے رہے ۔ ۱۹۲۰ء میں ’’خلافت‘‘ کے مسئلہ پر ایک مضمون میں انھوں نے لکھا: " یہ وقت خاموشی کا نہیں بلکہ گنبد فلک میں غلغلہ ڈالنے کا ہے، خواہ غلغلہ برپا کرنے کے لئے اسرافیل سے صور ہی کیوں نہ سنقار لینا پڑے۔" ظفر علی خان نے مجموعی طور پر تقریباً چودہ سال جیل میں گزارے۔ ۱۹۳۳ء میں وہ ایک ماہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader