ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کہا کہ بڑا دروازہ کھول لو۔ میں سرجھکا کر چھوٹے دروازہ سے اندر نہیں جاؤں گا۔ یہ صرف اللہ کے سامنے ہی جھکتا ہے (قومی آواز، ۱۶ جون ۱۹۹۱) اس قسم کی باتوں کا تعلق اسلام سے تو کیا ہوگا، ان کا تعلق عقل سے بھی نہیں ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے اکثر لیڈر اسی قسم کی بے معنی باتوں میں مشغول رہے۔ ۱۷ جون ۱۹۹۱ ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسلمان مسلسل غیر قوموں کے ظلم کا شکار ہیں۔ ۱۸۵۰ء میں مغل سلطنت انگریزوں کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔ ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد روسی ترکستان کا عظیم علاقہ (تاجکستان، ازبکستان، سمرقند، بخارا) کمیونسٹ ملحدوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں یہودی حکومت قائم ہوگئی۔ ۱۹۴۷ء اور پھر ۱۹۷۱ء میں برصغیر ہند کے مسلمان تین ٹکڑوں میں بٹ کر بے قیمت ہوگئے۔ ۱۹۹۱ کی جنگ خلیج میں عرب ممالک براہ راست یا بالواسطہ طور پر برباد ہوگئے، وغیرہ۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ مسلمان عذاب الہی کی زد میں ہیں۔ یہ عذاب اس کے باوجود ہے کہ اس ڈیڑھ سو سالہ مدت میں مسلمانوں کے اندر بہت بڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں۔ بہت بڑی بڑی جماعتیں بنیں۔ بہت بڑے بڑے ادارے قائم ہوئے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مسلم شخصیتوں اور تمام مسلم تحریکوں کو رد کر دیا۔ ۱۸ جون ۱۹۹۱ الرسالہ ستمبر ۱۹۹۱ کا شمارہ انشا اللہ "عظمت صحابہ" نمبر ہوگا۔ اس پرچہ کے سر ورق کے لئے آج میں نے حسب ذیل مضمون لکھ کر دیا: لوگ تاریخ کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اصحاب رسول کی عظمت یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے عمل سے انسانیت کی نئی تاریخ بنائی۔ آنکھ کا ایک ڈاکٹر جب عینک کا نمبر دینے کے لئے کسی کی آنکھ ٹیسٹ کرتا ہے تو وہ ایک کے بعد ایک شیشہ آنکھ پر رکھ کر پوچھتا ہے کہ وہ ٹھیک تھا یا یہ ٹھیک ہے۔ مجھے ایسا محسوس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader