ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا ہے کہ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے اچھے اور برے احوال آتے ہیں۔ آدمی کسی سے مطمئن ہوتا ہے اور کسی سے غیر مطمئن۔ مگر ہر بات کا آخری فیصلہ آخرت میں ہونے والا ہے۔ اور اخروی انجام کے اعتبار سے ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون سا ٹھیک ہے اور کون سا بے ٹھیک۔ یہاں کامیابی کے احساس سے دوچار ہونا اچھا ہے یا ناکامی کے احساس سے دوچار ہونا۔ لوگوں کے درمیان مقبول ہونا اچھا ہے یا لوگوں کے درمیان نامقبول اور غیر معروف بن جانا۔ احساس محرومی میں تڑپنا اچھا ہے یا احساس یافت میں مگن ہونا۔ تعریف کرنے والوں کی تعریف سننا اچھا ہے یا تنقید کرنے والوں کی تنقید کا نشانہ بننا۔ معاملات کا درست ہونا اچھا ہے یا معاملات کا بگڑ جانا۔ غم کی نفسیات میں جینا اچھا ہے یا مسرت کی نفسیات میں جینا۔ آخرت سے پہلے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کون جنت والا ہے اور کون جہنم والا۔ اسی طرح شاید آخرت سے پہلے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ کون سی چیز ٹھیک تھی اور کون سی چیز بے ٹھیک۔ ۲۰ جون ۱۹۹۱ ایک عربی پرچہ میں ایک فلسطینی کا مضمون پڑھا ۔ اس کا عنوان تھا: الجھاد هو الحل الوحيد (جہاد ہی واحد حل ہے)، اس میں دکھایا گیا تھا کہ اس وقت مسلمانوں کو جو مسائل درپیش ہیں، اس کا واحد حل جہاد ہے۔ اس طرح کی بات اکثر مسلمان کہتے ہیں۔ مگر یہ بے شعوری کی بات ہے۔ یہ نظریہ اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ جہاد نہیں ہو رہا ہے۔ حالاں کہ سو سال سے بھی زیادہ مدت سے جہاد ہی تو ہو رہا ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ اس نام نہاد جہاد کا کوئی نتیجہ اب تک برآمد نہ ہو سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ فقدان نتیجہ جہاد کو لوگ فقدان جہاد کے ہم معنی سمجھ رہے ہیں۔ ایک نوجوان نے کہا کہ میں لکھنا (مضمون نگاری) سیکھنا چاہتا ہوں۔ بتائیے کہ اس کا طریقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader