ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
لکھنا آجاۓ گا۔ آج میں آل انڈیا ریڈیو (اردو سروس) میں "عیداضحیٰ" پر ایک تقریر ریکارڈ کرانے کے لیے گیا تھا۔ وہاں میری ملاقات مسٹر سجاد رضوی سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میں دہلی سے بجنور (چاند پور) کی بس پر سفر کر رہا تھا۔ یہ کئی گھنٹے کا سفر تھا۔ میرے پیچھے کی سیٹ پر دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں الرسالہ کا کوئی شمارہ تھا۔ پورے راستہ میں الرسالہ کے موضوع پر بات کرتے رہے۔ اس طرح کے واقعات اکثر لوگ بتاتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ اب عمومی بحث مباحثہ کا موضوع بن گیا ہے۔ جہاں چند پڑھے لکھے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ وہاں الرسالہ زیر بحث آ جاتا ہے ، خواہ مخالفت میں یا موافقت میں۔ یہ بلاشبہ الرسالہ مشن کی کامیابی کی ایک علامت ہے۔ ۲۳ جون ۱۹۹۱ء اصحاب رسول مکہ چھوڑ کر مدینہ گئے۔ اس ہجرت سے ان کے اندر اخلاقی بگاڑ نہیں آیا۔ اور نہ مدینہ کی سوسائٹی میں کوئی کرپشن پیدا ہوا۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان کے بہت سے مسلمان پاکستان گئے۔ یہ مسلمان ہندوستان میں اچھی اخلاقی حالت پر تھے۔ مگر پاکستان پہنچ کر ان کے اندر زبردست اخلاقی بگاڑ آگیا۔ حتیٰ کہ پاکستان کی سوسائٹی بالکل کرپٹ ہو کر رہ گئی۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اصحاب رسول میں جو اخلاق تھا، وہ عقیدہ کے زور پر تھا ، اس لئے وہ جس طرح مکہ میں تھا ، اسی طرح وہ مدینہ میں بھی باقی رہا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اخلاق روایات کے زور پر تھا ، ہندوستان کو چھوڑ کر پاکستان جانے کے نتیجہ میں یہ روایات ٹوٹ گئیں۔ اس کے بعد ان کے اندر اخلاقی بنیاد بھی ختم ہوگئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader