Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کوئی شخص الرسالہ سے اپنے تاثر کا اظہار کرتا ہے تو اکثر میں اس سے پوچھتا ہوں کہ الرسالہ سے آپ کو ذاتی سبق کیا ملا۔ فاروق فیصل صاحب (بمبئی) سے میں نے یہی سوال کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ واقعے بتائے۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ فروری ۱۹۹۱ میں میں نے وہ مضمون پڑھا جس کا عنوان ہے: "شیر دیکھ رہا ہے۔" اس کو پڑھ کر میری عجیب حالت ہوگئی۔ اس کو پڑھ کر میں مسجد میں نماز کے لئے گیا۔ امام صاحب نے سورۃ الحشر کا آخری رکوع پڑھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے چاروں طرف سے خدا کی نگاہیں مجھ کو دیکھ رہی ہیں۔ میں تھر تھر کانپنے لگا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں گر پڑوں گا۔ ۲۵ جون ۱۹۹۱ بمبئی کے ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب "پیغمبر انقلاب" پڑھی۔ مجھ کو یہ کتاب بہت پسند آئی۔ میں نے پوچھا کہ اس کتاب میں آپ کو کیا ملا۔ انہوں نے کہا : اس کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک نئے سرے سے روشناس ہورہا ہوں۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ "پیغمبر انقلاب" مجھ کو اتنی پسند آئی کہ اس کو میں نے اپنے یہاں کی جامع مسجد میں پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔ ہر ہفتہ جمعہ کے دن اس کا ایک حصہ سناتا۔ اس کام میں مجھ کو ایک سال لگ گیا۔ آخر کار میں نے پوری کتاب سنا دی۔ ۲۶ جون ۱۹۹۱ محمد افسر الدین فاروقی (رتلام) ریلوے میں چیف ٹرین کنٹرولر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ کلمہ گو کے لئے نجات ہے۔ مگر غیر مسلمین خواہ کتنے اچھے اخلاق کے ہوں، انہوں نے چوں کہ کلمہ نہیں پڑھا، اس لئے وہ جہنم میں جائیں گے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ غیر مسلمین کے لئے اصول یہ ہے کہ ________ جیسا علم ویسا مواخذہ ۔ یعنی جو شخص دین خدا اور ندی سے جتنا مطلع ہوا ہوگا، اسی کے بقدر اس کا حساب لیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page