ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
اور یہ اللہ کو معلوم ہے کہ کس کو کتنی اطلاع پہنچی ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، یہ بات غلط ہے کہ کلمہ گوئی پر نجات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نجات اخلاص پر ہے نہ کہ تلفظ کلمہ پر۔ ایک شخص کلمہ پڑھ کر مسلم برادری میں شامل ہو جاتا ہے، مگر جہاں تک اخروی نجات کا تعلق ہے، اس کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے اندر اخلاص تھا یا نہیں تھا۔ ۲۷ جون ۱۹۹۱ ایک صاحب نے کہا کہ اقبال کو تمام مسلمان اتھارتی سمجھتے ہیں۔ آپ اقبال پر تنقید کر کے خواہ مخواہ تمام لوگوں کو ناراض کر رہے ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ اس قسم کی دل آزار تنقیدوں سے گریز کریں۔ میں نے کہا کہ اقبال پر تنقید اس لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں نے ان کو اتھارتی کا درجہ دے دیا ہے۔ جب تک مسلمان اقبال کے بجائے قرآن وسنت کو اتھارتی نہ بنائیں، ان کا عمل صحیح رخ پر جاری ہونے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ اقبال نے مسلمانوں کو جو پیغام دیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانہ تمہارے ساتھ موافقت نہیں کر رہا ہے اس لئے تم اس سے لڑ کر اس کو اپنا موافق بناؤ: زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز اسی رہنمائی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان بے فائدہ طور پر اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑنے بھڑنے میں مصروف ہیں۔ مگر یہ سراسر غلط رہنمائی ہے۔ قرآن میں اس کے برعکس یہ بتایا گیا ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنی کوتاہیوں کو بھگتتا ہے (الشوریٰ ۳۰) ایسی حالت میں مسلمانوں سے کہنے کی بات یہ تھی کہ زمانہ اگر تم کو تسلیم نہیں کر رہا ہے تو اس کی وجہ خود تمہاری کمی ہوگی۔ اپنی کمیوں کو جان کر اس کی تلافی کی جدوجہد میں لگ جاؤ۔ جب تم اپنی کمیوں کی تلافی کر لو گے تو قانون قدرت کے تحت دنیا مجبور ہو جائے گی کہ وہ تمہارا اعتراف کر لے۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ دور کتاب کا نہیں، خطاب کا ہے۔ آپ کو الرسالہ کے بجائے آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ اپنا مشن پھیلانا چاہئے ۔ دیکھئے آیت اللہ خمینی نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader