Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

کیسٹوں کے ذریعہ ایران میں کتنا بڑا انقلاب برپا کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی دلیل نہیں۔ کارل مارکس نے خمینی سے بڑا انقلاب برپا کیا اور اس نے اور اس کے حامیوں نے اپنا سارا کام کتابوں کے ذریعہ کیا تھا۔ مزید یہ کہ یہ قرآن میں ہے کہ اللہ نے علم کے ذریعہ تعلیم دی (عَلَّمَ بِالْقَلَمِ)، ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کے تمام بیانات ابدی ہیں۔ اس لئے علم کے ذریعہ کی فوقیت بھی ابدی ہونا چاہئے۔ یہ صحیح نہیں کہ موجودہ زمانہ نے خطاب کو کتاب کے اوپر فائق کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا مقام اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ البتہ دونوں کے حق میں نئے نئے ذرائع وجود میں آگئے ہیں۔ مثلاً کتاب کے حق میں پرنٹنگ پریس، اور خطاب کے حق میں کیسٹ وغیرہ۔ یہ اضافہ ذرائع کا معاملہ ہے نہ کہ تبدیلی زمانہ کا معاملہ۔ ۲۹ جون ۱۹۹۱ پاکستان ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو وجود میں آیا۔ ۷ مارچ ۱۹۴۹ء کو اسلامی قرارداد مقاصد منظور ہوئی۔ ۱۹۵۶ء میں دستوری طور پر اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا۔ ۱۹۶۹ میں جنرل ضیاء الحق نے شریعت بنچ مقرر کی۔ ۱۹۸۰ء میں وفاقی عدالت قائم ہوئی۔ اب طویل ہنگامہ کے بعد ۱۶ مئی ۱۹۹۱ء کو پاکستان کی مرکزی اسمبلی نے شریعت بل منظور کر لیا۔ یہ اسلامی قانون کے نفاذ کی طرف پاکستان کے ۲۵ سالہ سفر کا خلاصہ ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ تمام "فتوحات" محض نادانی کے قصے ہیں۔ پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اتنا ہی بے معنی ہے جتنا پانچ سال کے لڑکے اور لڑکی کا نکاح کر کے انھیں ازدواجی زندگی گزار نے پر مجبور کرنا۔ پاکستان کا معاشرہ دنیا کا سب سے زیادہ بگڑا ہوا معاشرہ ہے۔ وہاں پہلا ضروری کام افراد اور معاشرہ کی اصلاح تھا جو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کسی بھی درجہ میں نہیں کیا گیا۔ بلکہ اسلامی قانون نافذ کر و کی مہم کے دوران جس طرح روایات توڑی گئیں، اس نے معاشرہ کو بد سے بد تر حالت تک پہنچا دیا۔ ایسی حالت میں جو لوگ اسلامی قانون کے نفاذ کی ہم چلا رہے ہیں وہ یا تو علم سے خالی ہیں یا سنجیدگی سے خالی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page