Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں زنا کا جرم عین ارتکاب کے وقت چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جوش ملیح آبادی نے کہا: پھر یہ مجرم کے جرم کی سزا تو نہ ہوئی! بلکہ اس کی حماقت کی سزا ہوئی کہ چار آدمیوں نے اس کو اس جرم کی حالت میں دیکھ لیا۔ یہ تبصرہ بجائے خود حماقت ہے۔ جرائم کے ثبوت کے لئے گواہی کا اصول ایک عام اصول ہے جو تمام قانونی نظاموں میں پایا جاتا ہے۔ اسلامی قانون میں زنا کے لئے چار گواہ کی شرط سزا کی سختی کی بنا پر ہے۔ چار گواہ کا اصول اسی لئے ہے تاکہ جج کسی شخص کو یہ سخت سزا صرف اس وقت دے جب کہ قطعی دلائل سے اس کا وقوع ثابت ہو جائے۔ اور سخت سزا کا اصول اس لئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ معاشرہ میں اس کی حوصلہ شکنی ہو۔ ایک مجرم کی بھیانک سزا کو دیکھ کر دوسرے لوگ اس کا ارتکاب کرنے سے باز رہیں۔ یکم جولائی ۱۹۹۱ آج نصف شب میں طرابلس سے ٹیلیفون آیا۔ محمد سلیمان القائد اور دوسرے عرب نوجوانوں نے بات کی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محمد سلیمان القائد انشاء اللہ ہمارے اس مشن کے لئے لینن ثابت ہوں گے۔ ان کے اندر زبردست تنظیمی صلاحیت ہے۔ انھوں نے سیکڑوں عرب نوجوانوں کو نہایت گہرے طور پر اس مشن کا حامی بنایا ہے۔ قاہرہ میں اشاعتی ادارہ کھول دیا ہے۔ اور دوسرے بہت سے کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے۔ قاری محمد طیب صاحب نے لکھا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب کے سامنے جب انگریزوں سے ترک موالات کا استفتاء پیش کیا گیا تو فرمایا کہ مجھے انگریزوں سے غیر معمولی بغض و نفرت ہے۔ ان کے بارے میں فتویٰ دینے میں مجھے اپنے نفس پر اعتماد نہیں۔ اس لئے مفتی کفایت اللہ صاحب سے فتویٰ لے لیا جائے۔ (قومی آواز، یکم جولائی ۱۹۹۱) مولانا ابو الحسن علی ندوی نے مولانا محمد علی کی تعریف میں لکھا ہے کہ انھوں نے تحریک خلافت اور آزادی وطن کے ساتھ تحریک موالات کو ضم کر کے غیر ملکی حکومت کے خلاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page