Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

نفرت اور بغاوت کی آگ بھڑکادی (قومی آواز ۲ جولائی ۱۹۹۱) موجودہ زمانہ کے اکابر کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ انہیں انگریزوں سے شدید نفرت تھی اور پوری قوم کو انہوں نے انگریزوں کے خلاف متنفر کر دیا۔ مگر یہ بات قابل تعریف نہیں بلکہ قابل مذمت ہے۔ یہ بات اتنی غلط ہے کہ یہ تمام اکابر مجھے اصاغر نظر آنے لگتے ہیں۔ انگریز ان کے لئے مدعو کا درجہ رکھتا تھا۔ انگریزوں کے بارہ میں ان کے دل میں محبت اور شفقت ہونی چاہئے تھی تاکہ وہ اس کے سامنے دین رحمت کا پیغام پیش کر سکیں۔ آخر وہ ان سے نفرت کیوں کرنے لگے۔ ۳ جولائی ۱۹۹۱ آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ایران میں دودھارلے ہوگئے ہیں۔ ایک کو "روحانی" کہا جاتا ہے۔ اس میں علماء اور مذہبی افراد شامل ہیں جو اپنے آپ کو امام خمینی کا فکری وارث بتاتے ہیں۔ اس کے لیڈر احمد خمینی ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جس کو ایران کی اصطلاح میں "بازاری" کہا جاتا ہے کہ اس کے رہنما علی اکبر رفسنجانی ہیں۔ نوائے وقت (۱۹ جون ۱۹۹۱) میں ایک سفر نامہ کے تحت میں نے اس کو پڑھا تو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوئی۔ کیوں کہ "بازاری" کا لفظ اردو زبان میں بہت برے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مگر سفر نامہ میں آگے بتایا گیا تھا کہ ایران میں بازاری سے مراد ٹریڈ کلاس ہوتا ہے۔ یہ لوگ کاروبار کرتے ہیں اور ایران کو صنعت و تجارت میں ترقی دینے پر زور دیتے ہیں۔ اس بناء پر ان کو بازاری طبقہ یعنی تاجر طبقہ کہا جاتا ہے۔ ۴ جولائی ۱۹۹۱ رحمن نیر صاحب نے بتایا کہ آجکل کے حالات اتنے خراب ہیں کہ کسی بھی شخص پر کوئی اعتماد نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی سے ہاتھ ملاؤ تو اس کے بعد یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ہاتھ کی پانچوں انگلیاں ہیں یا نہیں۔ سننے والے صاحب نے کہا کہ آپ انگلیاں گننے کی بات کرتے ہیں ، ہم تو ہاتھ ہی نہیں ملاتے۔ موجودہ سماج میں خود غرضی اور بدعنوانی اتنا زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اب کسی کو دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page