Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اوپر اعتماد نہیں۔ کوئی شخص اپنے خلاف ایک لفظ سننے کے لئے تیار نہیں۔ میں اکثر اپنے دل میں کہا کرتا ہوں کہ اپنے بس میں صرف صبر ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ سب دوسرے کے اختیار میں ہے۔ ۵ جولائی ۱۹۹۱ء انگریزی زبان کی ایک مشہور مثل ہے کہ ۔ ایک صاحب تحمل آدمی کے غضب سے خبردار رہو: Beware of the wrath of a man of patience. اس کا ایک سادہ مطلب یہ ہے کہ صبر و تحمل والے آدمی کا جب صبر ٹوٹتا ہے اور وہ غیظ و غضب میں آتا ہے تو وہ بے پناہ ہو جاتا ہے۔ مگر دوسرا زیادہ گہرا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر تحمل کا مزاج ہو وہ اپنے حریف کو منصوبہ بند انداز میں مارتا ہے۔ اور جو آدمی منصوبہ بند انداز میں عمل کرے ، اس کے عمل کا توڑ ممکن نہیں ہوتا۔ ۶ جولائی ۱۹۹۱ء اخبار قومی آواز (۶ جولائی ۱۹۹۱ء) میں نئی دہلی کی ایک خبر چھپی ہے۔ اس کے مطابق ، ” اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے والی ایک مسلم خاتون کو عدالت کے حکم پر، ۲ ہزار روپیہ بطور نان نفقہ (متارع) ادا کیا گیا۔ یہ رقم عدالتی فرمان سے وصول کی گئی۔ ۴۳ سالہ فرزانہ کا نکاح ۱۹۸۶ میں ہوا تھا اور اس نے اپنے سسرال والوں کی طرف سے ستائے جانے کی بنا پر ۳۱ مئی ۱۹۹۱ کو قانونی طور پر طلاق لے لی تھی۔ نان نفقہ وصول کرنے میں ایک رضا کار تنظیم نے اس خاتون کو قانونی امداد فراہم کی۔“ یہ ایک غریب خاندان کا واقعہ ہے۔ اگر سابقہ قانون کے مطابق ، عورت کو اپنے سابقہ شوہر سے ماہانہ نفقہ دلایا جاتا تو مشکل اس کی مقدار ۸۰ روپیہ ماہوار ہوتی۔ مگر نئے ایکٹ کے مطابق ، اس نے اپنے سابقہ شوہر سے بیک وقت ۲۰ ہزار روپیہ کی رقم حاصل کرلی۔ گویا نئے مسلم ایکٹ سے جو فرق پڑا ہے وہ صرف یہ کہ عورت جو رقم ماہانہ قسطوں کی صورت میں ، ۲ سال میں وصول کرتی اس کو اس نے پہلے ہی دن اکٹھے وصول کر لیا۔ یہ ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page