Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارنامہ کی حقیقت ۔ رحمن نیر صاحب (پیدائش ۱۹۳۹) نے بتایا کہ وہ نومبر ۱۹۸۳ء میں حج کے لئے گئے۔ واپسی میں مکہ سے جدہ آتے ہوئے ان کی ایک ایٹیچی کہیں چھوٹ گئی۔ تلاش کے باوجود نہیں ملی تو وہ یہ کہہ کر جہاز میں سوار ہو گئے کہ "حاجی کا سامان گم نہیں ہوتا"۔ ایٹیچی پر اسٹیکر لگا ہوا تھا جس پر ان کا دہلی کا پتہ اور ٹیلیفون نمبر درج تھا۔ دہلی واپسی کے دو ہفتہ بعد انھیں سعودی ایئر لائنز کا ٹیلیفون ملا کہ آپ کی ایٹیچی لاکر ہم نے دہلی ایئر پورٹ پر چھوڑ دی ہے۔ وہاں جا کر لے لیں۔ رحمن نیر صاحب دہلی ایئر پورٹ گئے۔ اپنی ایٹیچی حاصل کر کے کسٹم پر آئے۔ کسٹم کے آدمی نے ایٹیچی کھلوائی۔ اس میں سب سے اوپر سفید ٹیرسی کاٹ کا ایک تھان رکھا ہوا تھا۔ اس نے تھان فورا اٹھایا اور کہا کہ یہ کیا ہے۔ رحمن نیر صاحب نے کہا کہ "یہ کفن ہے" کفن کا لفظ سنتے ہی اس نے کہا کہ بند کرو ، بند کرو ۔ اور انھیں چھوڑ دیا۔ یہ کپڑا انھوں نے مکہ میں خرید کر اس کو زمزم سے تر کر کے سکھا لیا تھا کہ وہ بطور کفن استعمال ہوگا۔ کسٹم افسر نے دیکھا کہ کلرک نے رحمن نیر صاحب کو فورا چھوڑ دیا تو اس نے سمجھا کہ شاید اس نے کچھ لین دین کر لیا۔ چنانچہ وہ خود اٹھ کر آگیا۔ اور دوبارہ ایٹیچی کھلوائی۔ اس نے تھان کو اٹھا کر پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ رحمن نیر صاحب نے دوبارہ کہا کہ کفن۔ کسٹم افسر نے بھی "کفن" کا نام سن کر کہا کہ جاؤ ، جاؤ۔ ۸ جولائی ۱۹۹۱ء بہادر شاہ ثانی ظفر (۱۸۶۲-۱۷۷۵)، ہندوستان کی مغل سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ ان کے زمانہ میں مغل سلطنت سمٹ کر صرف دہلی بلکہ لال قلعہ کی دیواروں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ خود بہادر شاہ ظفر کو اس کا احساس ہو چکا تھا کہ اب ہندوستان میں مغل دور ختم ہو چکا ، اب یہاں برٹش دور کا آغاز ہے۔ چنانچہ انھوں نے کہا : اے ظفر اب ہے تجھی تک اہتمام سلطنت بعد تیرے نے ولی عہدی نہ نام سلطنت مگر مغل رانیاں اور مغل شہزادے جو محلوں کے اندر رہتے تھے ، اب بھی اس حقیقت سے بے خبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page