Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

آخر کار اپنی تیسری بیوی زینت محل کے اصرار پر بہادر شاہ ظفر نے اس کے لڑکے کو جوان بخت کو اپنا ولی عہد بنانے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ۱۸۵۳ء میں کیا گیا، جب کہ چند سال بعد ۱۸۵۷ء میں جواں بخت سمیت پورا شاہی خاندان رنگون بھیجا جانے والا تھا تاکہ جلاوطنی کی زندگی گزار کر مر جائیں۔ 9 جولائی 1991ء ۱۸۳۶ء میں دہلی سے اردو اخبار نکالا گیا تو اس کا نام " احسن الاخبار " رکھا گیا۔ جب کہ اسی زمانہ میں دہلی سے نکلنے والے انگریزی اخبار کا نام دہلی گزٹ تھا۔ اس سے دونوں زبانوں کے ذوق کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ اردو قوم" صحافت کے میدان میں داخل ہوئی تو اس نے اپنے اخبار کے لئے " احسن الاخبار" کا نام پسند کیا۔ دوسری طرف انگریزی قوم" نے سادہ طور پر اپنے اخبار کا نام صرف "دہلی گزٹ" رکھا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ڈیڑھ سو سال کی صحافتی تاریخ میں اردو والے ایک بھی ایسا اخبار نہ نکال سکے جو حقیقی معنوں میں احسن الاخبار ہو۔ جب کہ انگریزی والوں نے متعدد اعلیٰ اخبار نکالے مگر کبھی انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ اپنے اخبار کا نام احسن الاخبار رکھ دیں۔ 10 جولائی 1991ء عبد المنان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ابتدا کتابت کا کام سیکھا۔ ایک عرصہ تک وہ کتابت کا کام کرتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے پرنٹنگ پریس لگالیا۔ مگر وہ پرنٹنگ پریس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اب دوبارہ وہ کتابت کا کام کر رہے ہیں ۔ وہ بڑے بڑے اداروں اور حکومتی شعبوں سے کتابت کے کام کا ٹھیکہ لیتے ہیں اور پندرہ کتابوں سے لکھواتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس طرح وہ ماہانہ دس ہزار سے بارہ ہزار روپیہ تک کما لیتے ہیں۔ اسی دوران انھوں نے اپنا ایک اخبار نکالا جو چھ ماہ جاری رہ کر حال میں بند ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page