آغازِ کلام
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
بار بار فرقہ وارانہ فساد ہوا ۔ اس کے نتیجہ میں ایک طرفہ طور پر مسلمان ہی تباہ ہوئے۔ مسلمان لیڈر اگر سمجھ دار ہوتے تو وہ ’ چھیڑیں تو چھوڑومت ‘ کے بجائے مسلمانوں سے کہتے کہ : چھیڑیں تب بھی نہ سمجھو ۔ ۱۰ جنوری ۱۹۹۳ آر ایس ایس کا فلسفہ ماننے والے ایک ہندو سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ بھارت میں اسپین کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں۔ مگر آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ سراسر ممکن ہی نہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد بارہ کروڑ ہے، جبکہ قدیم اسپین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ لاکھ سے بھی کم تھی ۔ آخر آپ اتنی بڑی تعداد کو کیسے ختم کر سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے ایسے نئے اسباب پیدا ہوچکے ہیں جو قدیم اسپین کے عمل کو دہرانے کی راہ میں فیصلہ کن طور پر رکاوٹ بنیں۔ پھر آپ کو معلوم ہے کہ اسپین کو اپنے اس عمل کی کیا قیمت دینی پڑی۔ اس کے نتیجہ میں اسپین جدید ترقی میں دو سال پیچھے ہو گیا۔ اس دوران میں یورپ کے دوسرے ملک بہت آگے بڑھ چکے تھے۔ چنانچہ یورپی برادری میں وہ دوسرے درجہ کا ایک ملک بن کر رہ گیا۔ اسپین میں مسلم قیادت کے تحت جدید ترقی کا عمل شروع ہوا۔ اگر اسپین مسلم دشمنی کے جنون میں مبتلا نہ ہوتا تو وہ جدید یورپ کا امام ہوتا۔ مگر مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور دشمنی کی قیمت اس کو یہ دینی پڑی کہ وہ جدید یورپ میں محض ایک مقلدری قوم بن کر رہ گیا۔ ۱۱ جنوری ۱۹۹۳ کانٹ نے ۱۷۸۱ء میں تنقید عقلیت (Critique of Pure Reason) نامی کتاب شائع کی ۔ اس میں اس نے دکھایا کہ خالص علم کے ذریعہ ہمیں خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی۔ آج تک اکثر دانشور اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں ۔ مگر یہ درست نہیں۔ وہ چیز جس کو سائنسی علم کہا جاتا ہے اس کی معرفت بھی کلی معرفت نہیں خالص علم کے ذریعہ نہیں ہوتی۔ سائنسی علم میں بھی ایک حد کے بعد قیاس یا معقول قیاس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader