Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں ہندوستان کے مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں سرکاری محکوموں میں ملازمت نہیں دی جاتی۔ اگر وہ صحابہ کے طریقہ پر چلتے تو وہ تجارتوں میں لگ جاتے اور پھر انہیں اس قسم کی شکایت کی ضرورت نہیں رہتی۔ ۷ جنوری ۱۹۹۳ سعودی میگزین المجلہ کے شمارہ یکم دسمبر ۱۹۹۲ میں مصر کے وزیر داخلہ عبد الحکیم موسی کا تفصیلی انٹرویو چھپا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ مصر میں جو مسلم جماعتیں اسلامی نفاذ کے نام پر مسلح تحریک چلا رہی ہیں ان کے خلاف حکومت مصر بہت تشدد دانہ کارروائی کر رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ وہ ہمارے خلاف ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، پھر کیا ہم ان کو سینہ سے لگائیں گے : انتم يواجهوننا بالسلاح ، فعل نواجههم بالاحضان اسی قسم کا واقعہ جب انڈیا میں ہوتا ہے تو اس کو ظلم کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ جب بھی تشدد کیا جائے تو اس کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔ اس کا حل تشدد کے خلاف احتجاج نہیں ہے، بلکہ اپنے تشدد کو ختم کر دینا ہے۔ ۸ جنوری ۱۹۹۳ ایک عربی رسالہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا ــــ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس امت کی فضیلت کا راز ہے۔ (الامر بالمعروف والنهي عن المنکر سر افضلية هذه الامة) یہ ایک لغوبات ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امت کا ایک فریضہ ہے۔ اس کا شرف اور افضلیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ فریضہ پچھلی امتوں پر بھی اسی طرح تھا جس طرح وہ امت محمدی پر مقرر کیا گیا ہے۔ ۹ جنوری ۱۹۹۳ حیدر آباد کے نااہل مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو یہ نعرہ دیا تھا کہ ــــ چھتریں مت مت چھتر و۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں نے اگر مسلم علاقہ میں جلوس نکالا یا انہوں نے کوئی نعرہ لگا دیا تو مسلمان فوراً اس سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح حیدر آباد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page