Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

جان لیوا ذمہ داری کا معاملہ ہے نہ کہ فخر کا معاملہ۔ میں اس کو ایک مجرمانہ فعل سمجھتا ہوں کہ خاتم الانبیاء کی امت ہونے پر فخر کیا جائے اور خاتم الانبیاء کی امت ہونے کی ذمہ داری کو ادا نہ کیا جائے ۔ یہ ذمہ داری دعوتی ذمہ داری ہے۔ ختم نبوت کے بعد سلمان مقام نبوت پر ہیں۔ اب ان کو انذار و تبشیر کی ذمہ داری کو ادا کرنا ہے جس کے لئے پیغمبر مبعوث ہوتے تھے۔ یہ ذمہ داری اتنی شدید ہے کہ اگر اس کا واقعی احساس ہو تو آدمی اپنے آپ کو احساس تقصیر میں مبتلا پائے گانہ کہ احساس فخر میں۔ ۴ جولائی ۱۹۹۳ء سنڈے آبزرویور (۴ جولائی) میں ایک رپورٹ پڑھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندو خاندانوں میں یہ ذہن بہت بڑھ رہا ہے کہ لڑکیوں کو پیٹ ہی میں ختم کر دیا جائے ۔ اس کے لئے جدید سائنٹفک آلات سے مدد لی جارہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی شادی کے لئے ماں باپ کو بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ بڑی ڈاوری کے بغیر اچھا شوہر ملنا ناممکن ہو گیا ہے۔ چنانچہ کہا جانے لگا ہے کہ آج پانچ سو روپیہ خرچ کرو اور پانچ لاکھ روپیہ بعد کو بچالو : Spend Rs. 500 now and save Rs. 5 lakh later. ۵ جولائی ۱۹۹۳ء ۱۸۵۷ء تک مسلمان برصغیر ہند میں حاکم کی حیثیت رکھتے تھے، اس کے بعد برٹش دور آیا۔ نئے نظام میں ان کو ہندو فرقہ کے مقابلہ میں برابر کی حیثیت دی گئی۔ ۱۹۴۷ء کے بعد سیکولر دستور کے تحت انھیں اقلیت کی حیثیت ملی۔ مگر مسلمان تینوں دور میں اپنی ذمہ داری پورا کرنے میں ناکام رہے۔ مسلمان جب اس ملک میں حاکم کی پوزیشن میں تھے تو انھوں نے ہندوؤں کو حقیر سمجھا حالاں کہ وہ ان کے لئے مدعو قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ برٹش دور میں جب وہ برابر کی حیثیت میں ہوگئے تو انھوں نے اپنی مدعو قوم سے نزاع کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد جب انھیں اکثریت کے مقابلہ میں اقلیت کا درجہ دیا گیا تو وہ احتجاج اور فریاد کا دفتر لے کر بیٹھ گئے۔ یہ سب غیر داعیانہ مزاج کے نتائج ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page