آغازِ کلام
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر ایک ایگزیکٹیو حکم تھا جو وقتی طور پر کسی تعین فرد کے لئے دیا جاتا ہے۔ اگر کسی کو اصرار ہو کہ وہ ایک شرعی مسئلہ کے طور پر تھا تب بھی قرآن وسنت کو دیکھتے ہوئے اسے ایک اجتہادی خطا کہا جائے گا، اور اجتہادی خطا قابل تقلید نہیں ہوتی۔ یکم جولائی ۱۹۹۳ نظام الدین میں ہمارے مکان کے سامنے نصف درجن اشوک کے درخت لگائے گئے تھے۔ درخت تیزی سے لمبے ہو گئے۔ مگر ان کا تنا پتلا تھا۔ تیز ہوا چلتی تو درخت اس طرح جھک جاتے جیسے وہ ٹوٹ جائیں گے۔ ایک مالی نے بتایا کہ اشوک کے درخت شروع میں کئی سال تک کاٹے جاتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے ہر درخت کا اوپر کا نصف حصہ کٹوادیا۔ اس طرح اب تک غالباً چار بار کاٹا جا چکا ہے۔ کل پھر مالی نے اوپر کا آدھا درخت کاٹ دیا۔ اب تنے موٹے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ قدرت کا ایک قانون ہے۔ کبھی بڑھوتری کو روکا جاتا ہے تاکہ استحکام کا مقصد حاصل ہوسکے۔ استحکام (consolidation) کے بغیر توسیع (expansion) کا کوئی فائدہ نہیں۔ ۲ جولائی ۱۹۹۳ انڈیا ٹوڈے کے ایڈیٹر منسٹر شیکھر گپتا نے اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان مسٹر نواز شریف کا انٹرویو لیا جو انڈیا ٹوڈے کے شمارہ ۳۰ جون ۱۹۹۳ میں چھپا ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کیوں نہیں آ رہی ہے۔ مسٹر نواز شریف نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو اب اپنا رجحان بدلنا چاہئے۔ انڈیا اور پاکستان کو اب صرف اقتصادیات کے میدان میں لڑنا چاہئے۔ India and Pakistan should fight only in the field of economy (55). اپنے حریف کو تخریب کے میدان سے نکال کر تعمیر کے میدان میں لانا بہت اچھا تخیل ہے۔ مگر اس کے لئے کچھ قربانی دینی پڑے گی۔ قربانی کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ بدقسمتی سے اس قربانی کے لیے نہ پاکستان کے لیڈر تیار ہیں اور نہ ہندوستان کے لیڈر۔ مسلمان اس پر فخر کرتے ہیں کہ وہ خاتم الرسل کی امت ہیں۔ مگر خاتم الرسل کی امت ہونا ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader