Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں کعبہ کے بارے میں ہے کہ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ (آل عمران ۹۶)، کعبہ اول البیت کیسے ہے، اس کے بارے میں تفسیروں میں کئی رائیں نقل کی گئی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ آدم کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے فرشتوں نے اس کو تعمیر کیا تھا۔ فرشتوں نے اس کو بیت معمور کے نمونہ پر بنایا (تفسیر مظہری ۹۲/۲) یہ ایک بے بنیاد تفسیر ہے۔ کعبہ الناس کے لئے بنایا گیا۔ پھر جب الناس کا سرے سے وجود ہی نہ ہو تو کعبہ کی تعمیر کس کے لئے کی جائے گی۔ اس تفسیر کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اول کے لفظ کو اس کے منطقی معنی میں لے لیا گیا۔ حالانکہ اس طرح کے الفاظ کبھی منطقی معنی میں نہیں ہوتے۔ ۷ جولائی ۱۹۹۳ جناب رحمٰن نیر صاحب نے بتایا کہ ایک شخص نے لکھا ہے کہ جب تم چالیس سال کے ہو جاؤ تو تم اپنی عادتوں کو بدل دو۔ یہ ایک سادہ سی بات ہے مگر وہ بے حد اہم بات ہے۔ خود میرا ہرنیا کا آپریشن اسی اصول سے انحراف کا نتیجہ تھا۔ میں اپنے کمرہ کی کھڑکی سے دیکھتا تھا کہ پارک میں لوگ ورزش کرتے ہیں اور کودتے ہیں۔ میں بھی اپنے کمرہ میں صبح کے وقت کودنے لگا۔ میں سمجھتا تھا کہ اس سے میری صحت اچھی ہوگی۔ مگر وہ میرے لئے الٹا پڑا ۔ مجھے کودنا یاد تھا۔ اور عمر کا پہلو میں بھول گیا۔ بہت سے لوگوں کی طرح مجھے ہرنیا کا معمولی اثر تھا جس کو میں لنگوٹ باندھ کر کنٹرول کر سکتا تھا۔ مگر کودنے کی وجہ سے انت اتنی باہر آگئی کہ وہ کنٹرول سے باہر تھی۔ اب یہی صورت تھی کہ ان کا آپریشن کرایا جائے ۔ آپریشن ، خواہ وہ چھوٹا آپریشن کیوں نہ ہو ، وہ جسم کے نظام میں جارحانہ مداخلت ہے ۔ آدمی کو ہر وہ تدبیر کرنا چاہئے جو اس کو آپریشن سے بچانے والی ہو۔ آپریشن صرف اس وقت کرانا چاہئے جبکہ آخری مجبوری کا درجہ آجائے۔ نیاز احمد صاحب (132/246, Babupura, Kanpur-208023) جون میں دو ہفتے کے لئے کشمیر گئے تھے۔ وہاں وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ دو ہفتہ رہے۔ سرینگر اور انت ناگ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page