Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ قیام رہا۔ انھوں نے اپنے کئی تجربے بتائے۔ اس دوران اُن کا سامنا فوجیوں سے ہوا۔ وہ اگرچہ شیروانی اور ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور صاف نظر آتا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ مگر ہندوستانی فوجیوں نے کبھی ان کے ساتھ بُرا سلوک نہیں کیا۔ ایک بار وہ شالیمار باغ کے پاس کھڑے ہوئے تھے کہ اتنے میں انڈین ملٹری کا ایک آدمی آگیا۔ وہ وردی میں تھا اور گن لئے ہوئے تھا۔ نیاز صاحب نے اس کو دیکھتے ہی کہا کہ آداب عرض ہے۔ اس کے بعد وہ مسکرایا اور قریب آکر اچھے انداز میں باتیں کرتا رہا۔ آخر میں پاس کے ایک اسٹال پر لے جاکر ان کو اور ان کے ساتھی کو چائے پلائی۔ گفتگو کے دوران فوجی آدمی نے بتایا کہ ہم بھی انسان ہیں۔ کوئی پیار کے ساتھ بولے تو ہمارے دل میں بھی اس کے لئے پیار آئے گا۔ مگر کشمیریوں کا یہ حال ہے کہ وہ ہم سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ اگر ہم ایک گلاس پانی مانگیں تو وہ ہم کو پانی پینے کے لئے نہیں دیں گے۔ پھر آپ جانتے ہیں کہ نفرت کے جواب میں نفرت ہی پیدا ہوتی ہے۔ ۹ جولائی ۱۹۹۳ نظام الدین احمد صاحب کا وطن حیدر آباد ہے۔ مگر اب وہ عرصہ سے بمبئی میں رہتے ہیں۔ بمبئی میں ان کا ٹیلیفون نمبر یہ ہے (61286361, 6127648) انھوں نے بتایا کہ ۷ے ۱۹۸ میں میں لبر منسٹری کے تحت کلکتہ میں تھا۔ میں حیدر آباد سے کلکتہ جا رہا تھا۔ درمیان میں ناگپور کا اسٹیشن آیا۔ صبح کا اخبار پلیٹ فارم سے خریدا۔ اس کے پہلے صفحہ پر یہ سرخی تھی کہ کلکتہ میں دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم : Shoot at sight order in Calcutta. ناگپور میں میری ایک رشتہ داری تھی۔ خیال ہو کہ یہیں اتر جاؤں۔ پھر میں جی کراکر کے چلا گیا۔ ہوٹرہ اسٹیشن پر اترا تو وہاں زندگی بالکل نارمل تھی۔ اسٹیشن سے قیام گاہ تک شہر بالکل نارمل دکھائی دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کا واقعہ ہمیشہ شہر کے کسی گوشہ میں ہوتا ہے۔ مگر اخبار والے اس طرح خبر بناتے ہیں جیسے سارے شہر میں گولیاں چل رہی ہیں۔ دسمبر ۱۹۹۲ میں تمام اخباروں میں یہ خبریں چھپ رہی تھیں کہ بمبئی میں فساد۔ میں اسی بمبئی میں تھا مگر میرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page