آغازِ کلام
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
علاقہ میں کہیں کوئی فساد کا نشان دکھائی نہیں دیا۔ کیوں کہ فساد ممبئی کے ایک مخصوص علاقہ میں تھا نہ کہ سارے ممبئی میں۔ شمیم احمد صاحب دہلی میں وسنت وہار میں رہتے ہیں۔ وہ کمال صاحب کے ساتھ ملاقات کے لئے آئے۔ کمال صاحب نے بتایا کہ دہلی میں ان کے پانچ میرج کا میابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ان کے پاس کار ہے۔ ذاتی مکان ہے۔ بچے اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ زندگی کی تمام سہولتیں حاصل ہیں۔ شمیم صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ " ہندو قوم تو مسلمانوں کی دشمن ہے۔" مزید گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میرے گاہک ۹۹ فیصد ہندو ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ جب ہندو قوم مسلمانوں کی دشمن ہے تو وہ ۹۹ فیصد آپ کو بزنس دے کر آپ کی خوش حالی کا سبب کیوں بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر سوچنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو گئی ہے، حتی کہ وہ اپنے ذاتی تجربہ سے بھی کوئی سبق نہیں لے پاتے۔ مسلمانوں کی زرد صحافت اور ان کی زرد قیادت نے جو الفاظ ان کے دماغ میں بھر دئے ہیں، وہ بس اتنا ہی جانتے ہیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت مفقود ہو گئی ہے کہ اپنی عقل سے سوچ کر کسی بات کو جانیں۔ اسی کو کہتے ہیں عقل پر پتھر پڑ جانا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۹۳ عابد سعید جو ایس ایم اے پاکستان گئے تھے۔ وہاں ۲۲ دن کراچی وغیرہ میں رہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم ( مہاجر قومی موومنٹ) کے لیڈر الطاف حسین جولندن میں پناہ گزیں ہیں۔ وہاں سے وہ ٹیلیفون پر دو گھنٹہ تک تقریر کرتے ہیں۔ پاکستان میں لوگ کسی میدان میں جمع ہو جاتے ہیں اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ ان کی تقریر یہاں سنتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے لوگ اب ایم کیو ایم سے سخت متوحش ہو گئے ہیں اور اس کو مہاجر قومی موومنٹ کے بجائے مستقل قومی مصیبت کہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader