آغازِ کلام
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عرب ہر و فیسر نے کہا کہ آپ کی کتاب الاسلام تحدی (مذہب اور جدید چیلنج ) ساری مسلم دنیا میں نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھی گئی۔ آج بھی اس موضوع پر وہ ایک منفرد کتاب ہے۔ آپ کو اسی قسم کی کتابیں لکھنا چاہئے تھا۔ ایسی کتابوں کے ذریعہ آپ ساری مسلم دنیا کے علمی ہیرو بن جاتے۔ مگر بعد کو آپ ایسی کتابیں لکھنے لگے جس میں اسلامی تحریکوں اور اسلامی شخصیتوں پر تنقید ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگ آپ سے بدک گئے۔ میں نے کہا کہ الاسلام تحدی تو اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ لکھوایا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ معجزہ بار بار نہیں دکھایا جاتا۔ میرا اصل کام وہی ہے جس کو میں اب کر رہا ہوں۔ الاسلام تحدی کلامی موضوع سے متعلق ایک کتاب ہے۔ جب کہ میرا اصل مشن تجدید دین ہے۔ ۱۳ جولائی ۱۹۹۳ میرے پاس اکثر ایسے مسلمان آتے ہیں جو عملی معاملات پر سوالات کرتے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ یہ لوگ نہ سوال کرنے میں سنجیدہ ہوتے ہیں اور نہ سوال کا جواب پانے سے انھیں کوئی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ بس موضوع گفتگو کے طور پر کچھ سوال کریں گے۔ اور سطحی گفتگو کرتے چلے جائیں گے۔ مجھے ایسے لوگوں پر بہت تعجب ہوتا ہے۔ کیوں کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں ایک بار بھی ایسا نہیں کیا۔ اگر مجھے سوال کرنا ہو تو متعلقہ موضوع کا مطالعہ کر کے سب سے پہلے میں یہ سمجھنے کی کوشش کروں گا کہ سوال کی نوعیت کیا ہے۔ اور کیا سوال بنتا ہے۔ پھر جب کسی سے سوال کروں گا تو اس کے جواب کو انتہائی غور کے ساتھ سنوں گا۔ اور خالی الذہن ہو کر اس کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ ۱۴ جولائی ۱۹۹۳ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اعلیٰ ربانی کیفیات کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس قسم کی کیفیات کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو خود بھی ان کیفیات سے آشنا ہو۔ ان کیفیات کو لفظوں میں بیان کرنے والی زبان صرف آخرت میں حاصل ہوگی، دنیا میں ایسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader