آغازِ کلام
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
زبان کا ملنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر عبدالکھیم نائک بمبئی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دسمبر ۱۹۹۲ میں بمبئی میں جو فساد ہوا اس کی شروعات مسلمانوں نے کی تھی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب یہ خبر ملی کہ ایودھیا کی بابری مسجد توڑ دی گئی تو بمبئی کی منارہ مسجد میں کچھ نوجوان مولویوں نے پرجوش تقریریں کیں اور مسلمانوں کو جہاد پر ابھارا۔ اسی رات کو کچھ مسلمانوں نے علاقہ کے دو پولیس والوں پر حملہ کیا۔ ایک کو مار ڈالا اور دوسرا سخت زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد ۷ دسمبر کو مسلمانوں نے جوگیشوری میں تشدد کا آغاز کیا۔ اس کے بعد فسادات شروع ہوئے۔ یہی ہندوستان کے ہر فساد کی کہانی ہے۔ مگر مسلمانوں کے جھوٹے لیڈر جب فساد کی رپورٹ چھاپتے ہیں تو واقعہ کا پہلا حصہ حذف کر دیتے ہیں۔ وہ صرف واقعہ کا دوسرا حصہ چھاپتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بظاہر لوگوں کو نظر آتا ہے کہ مسلمان تو معصوم ہیں۔ ہندو یکطرفہ طور پر ان پر ظلم کر رہے ہیں۔ ۱۶ جولائی ۱۹۹۳ ہمارے یہاں ایک ہریجن عورت گھر کی صفائی کرتی ہے۔ آج اس نے بتایا کہ اب اس کو سڑک کی صفائی کے لئے سرکاری ملازمت مل گئی ہے۔ "صفائی کرمچاری" کا کام ہریجنوں کے لئے ریزرو ہے۔ اس کے باوجود مذکورہ ہریجن عورت (راجن) کو زبردست کوشش کے بعد یہ کام ملا۔ راجن کئی سال سے " سرکاری کام " حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی کے ساتھ اس کو معلوم تھا کہ نوکری ملنے کے بعد بھی اس کو دس ہزار روپیہ رشوت دینا پڑے گا۔ ورنہ دفتر والے اس کی منظوری نہیں ہونے دیں گے۔ چنانچہ وہ دفتری کوشش کے باوجود نظام الدین کالونی میں بہت سے گھروں میں صفائی کا کام لئے ہوئے تھی۔ وہ صبح سے لے کر شام تک مسلسل اس گھر سے اُس گھر دوڑتی رہتی تھی تاکہ روپیہ جمع کر سکے۔ اس طرح سخت محنت کے ذریعہ اس نے دس ہزار روپیہ فراہم کیا اور دفتر میں اس کو پہنچا کر نوکری حاصل کی۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اکثر یہ کہتے رہتے ہیں کہ نچلے درجہ کے سرکاری کاموں میں بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader