Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ہے کیا مسلمان اس قابل بھی نہیں ہیں۔ یہ محض جھوٹے الفاظ ہیں کیونکہ ہندوستان میں اب رشوت اتنی بڑھ چکی ہے کہ کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں تھا۔ مسلمان سرکاری ملازمتوں میں اس لئے نہیں ہیں کہ وہ راجن کی طرح اس کی شرط پوری کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کا سبب یقینی طور پر تعصب نہیں بلکہ کرپشن ہے۔ اور کرپشن کا شکار اسی طرح ہندو بھی ہو رہے ہیں جس طرح مسلمان ہو رہے ہیں۔ ۱۷ جولائی ۱۹۹۳ میں ایک کام کر رہا تھا۔ اس میں ایک شدید بھول ہو گئی۔ اس کی وجہ سے پورے کام کو ازسرنو انجام دینا پڑا۔ اس میں کئی گھنٹے مزید لگ گئے۔ میں نے سوچا کہ خدا یا، انسان کو تو نے کتنا زیادہ عاجز پیدا کیا ہے۔ یہ عجز اس لئے ہے کہ آدمی اپنی کیوں کر بھگتے تو یہ بڑا ہی سخت معاملہ ہے۔ اور اگر یہ عجز اس لئے ہے کہ انسان تیری قدرت کا احساس کر کے تیرے آگے جھک جائے تو بلا شبہ یہ تیرا ایک احسان ہے۔ کیوں کہ انسان اگر عاجز نہ ہوتا تو شاید وہ موت سے پہلے کبھی تیری قدرت کا اعتراف نہ کر پاتا۔ ۱۸ جولائی ۱۹۹۳ ضیاءالرحمن نیز صاحب نے بتایا کہ ایک بار ان کا کلرک ان کا پیسہ لے کر بھاگ گیا۔ انھوں نے دہلی کے ایک مسلمان سے اس کا ذکر کیا۔ یہ سلمان کوئی پڑھا لکھا مسلمان نہیں تھا۔ مگر اس نے بڑی کار آمد بات کہی۔ اس نے کہا کہ اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ چور مال لے گیا ، اس کا ثواب تمہارے کھاتے میں ٹرانسفر ہو گیا۔ ۱۹ جولائی ۱۹۹۳ ایک جاپانی انجینئر ہندوستان آیا۔ اس نے یہاں کی ایک فیکٹری دیکھی۔ اس کو یہ جان کر تعجب ہوا کہ فیکٹری کے ہر شعبہ میں ایک سپروائزر مقرر ہے جو درکروں کے کام کی نگرانی کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہمارے یہاں بھی فیکٹری میں سپروائزر ہوتے ہیں مگر وہ درکروں کو کام بتانے کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ ورکروں کی نگرانی کے لئے: Supervisor is needed for explaining the job. Supervisor is not needed for supervising the workers for their working.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page