Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

پروفیسر نورالحسن (۱۹۳۱ - ۱۹۹۳) آخر وقت میں مغربی بنگال کے گورنر تھے۔ اسی عہدہ پر رہتے ہوئے کلکتہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے ایک عزیز کا مراسلہ قومی آواز (۲۰ جولائی) میں چھپا ہے۔ اس کا ایک پیراگراف یہ ہے: "جب نورالحسن صاحب لکھنؤ یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے تو اس وقت لکھنؤ میں پروفیسر احمد علی، ڈاکٹر رشید جہاں، سید سجاد ظہیر اور ڈاکٹر اشرف کے نام کا سکہ چل رہا تھا جو سب کے سب کمیونسٹ تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ نور الحسن صاحب کا ذہنی رجحان کمیونزم کی طرف ہو گیا تھا اس زمانہ میں لکھنؤ سے ایک اخبار جو کمیونسٹ پارٹی کا ترجمان تھا شائع ہوا کرتا تھا۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ شام کے وقت وہ اپنی سائیکل کے ہینڈل پر رکھے ہوئے اخبار کی کاپیاں فروخت کیا کرتے تھے۔ جسٹس نانا کے نواسے، رئیس الوقت دادا کے پوتے، شریف النفس ماں باپ کے فرزند نے پارٹی کی محنتانہ خدمت میں ہار کر بننا معیوب نہ سمجھا۔" اربینات میں اس طرح کے بہت سے کمیونسٹ تھے۔ مثلاً میرے وطن اعظم گڑھ میں پیر زادہ منظور احمد شبلی نیشنل کالج میں انگلش کے استاد تھے۔ اور کالج سے چھٹی پانے کے بعد ہر روز اعظم گڑھ کے چوک پر کھڑے ہو کر کمیونسٹ اخبار بیچا کرتے تھے۔ مسلمانوں کی موجودہ نسلوں کو دیکھئے تو ان میں اس طرح کی استد رانی کا جذبہ دکھائی نہیں دیگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ان کی دریافت نہیں۔ وہ صرف ایک نسلی وراثت ہے۔ موجودہ زمانہ میں کوئی بھی تحریک نہیں اٹھی جو ان مسلمانوں کے تقلیدی ایمان کو از سر نو ایک دریافت بنائے۔ اور جب دریافت کے درجہ کا ایمان نہ ہو تو اس سے قربانیوں کا ظہور بھی نہیں ہو سکتا۔ ۲۱ جولائی ۱۹۹۳ عابد سعید ایم اے (بیراسی) لاہور گئے۔ وہاں کسی نے ان کو ن کر کی 'غلطی' پڑھنے کے لئے دی جو میرے خلاف ایک مفصل کتاب ہے۔ مجھ سے انہوں نے کہا کہ اس تنقیدی کتاب کو پڑھ کر مجھے لارڈ بائرن کا ایک قول یاد آگیا۔ لارڈ بائرن خود بھی ایک تنقیدی آدمی تھا، مگر وہ غیر علمی اور سطحی تنقیدوں کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اس نے ایسے ناقدین کے بارے میں کہا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page