Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

Cheap critics are like vultures who eat the flesh of literature. سورہ آل عمران کی آیت ۱۲۰ پر غور کرتے ہوئے خیال آیا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں دشمن کی سازش صرف ۵۰ فیصد کی حد تک مؤثر ہے۔ وہ اپنی تکمیل کو صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی طرف سے کوئی غلطی کر کے اس کا بقیہ ۵۰ فیصد حصہ پورا کر دے۔ صبر و تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ بقیہ نصف حصہ دشمن کو حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہوگا تو اس کی سازش بھی بے انجام ہو کر رہ جائے گی۔ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ آج میں نے جمعہ کی نماز ایک نئی مسجد میں پڑھی؛ یہ پہاڑ گنج (دہلی) کی مسجد سنگ تراشان ہے۔ یہ مسجد خالص ہندو علاقہ میں ہے۔ وہاں کوئی ایک گھر بھی مسلمانوں کا نہیں ۔ ۱۸۴۷ کے بعد یہ مسجد کوڑا خانہ بنا دی گئی تھی۔ ایک مسلمان محمود سعید بلالی نے اس کو دریافت کیا۔ ۱۹۸۲ میں انھوں نے اس کی صفائی کرائی۔ لمبی جدوجہد کے بعد وہاں ایک مدرسہ قائم ہے۔ پانچ وقتہ نماز ہوتی ہے۔ وغیرہ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں زیادہ تر چھوٹے اور گم نام لوگوں نے کام کئے ہیں۔ بڑے لیڈروں نے ذاتی شہرت و عظمت تو حاصل کی مگر ملت کا کوئی خاص کام وہ نہ کر سکے۔ الا ماشاء اللہ۔ ۲۴ جولائی ۱۹۹۳ آج فکی آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں مشہور انگلش صحافی گرمی لال جین کی یاد میں جلسہ تھا۔ ۱۹ جولائی کو ۷۱ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ میری بھی تقریر تھی۔ ٹائمز آف انڈیا کے موجودہ ایڈیٹر دلیپ پیڈ گاؤکر (Dileep Padgaonkar) نے اپنی تقرير میں کہا کہ میں پیدائش کے اعتبار سے ہندو ہوں۔ زبان کے اعتبار سے مراٹھی میری زبان ہے۔ ہندو پیریڈ، مسلم پیریڈ، برٹش پیریڈ سب میری تاریخ کا جزو ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں اتنا زیادہ وسیع ہوں کہ تمام تضادات میری ہستی میں سما جائیں : I am large enough to contain all these contradictions. اکثر غلط فہمیاں انسان کے کمتر اندازے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page