Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کے نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے لیڈر تھے ۔ ۱۹۹۰ء کے الیکشن میں ان کی پارٹی کو پاکستان کی مرکزی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی۔ وہ وزیر اعظم بن گئے۔ مگر جلد ہی ان سے اور صدر اسحاق خاں سے اختلافات شروع ہو گئے۔ صدر اسحاق خاں کے الفاظ میں ، نواز شریف عہدہ میں چھوٹے تھے، مگر وہ چھوٹے بن کر نہیں رہنا چاہتے تھے ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ غلام اسحاق خاں اور نواز شریف کے تعلقات کی نوعیت بھارت اور پاکستان جیسی رقیبانہ ہوگئی (نوائے وقت ۲۱ جولائی ۱۹۹۳ء) آخر کار ۱۸ اپریل ۱۹۹۳ء کو صدر اسحاق خاں نے بدعنوانی اور نااہلی کا الزام لگا کر نواز شریف کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ نواز شریف پاکستان کی سپریم کورٹ میں گئے۔ سپریم کورٹ نے ۲۶ مئی ۱۹۹۳ کو قومی اسمبلی بحال کر دی۔ نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بن گئے۔ مگر وزیر اعظم اور صدر میں چپقلش جاری رہی۔ یہاں تک کہ فوجی چیف جنرل عبد الوحید نے مداخلت کرکے دونوں کو استعفا پر مجبور کر دیا۔ اعلان کیا گیا کہ اکتوبر میں الیکشن ہوگا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الیکشن کی جیت یا عدالت کا فیصلہ یا ایکٹ پاس کرنا، اس قسم کی چیزوں سے اسلامی نظام قائم نہیں ہوتا۔ اسلامی نظام کے لئے ملکی اور سماجی اور بین اقوامی حالات کی موافقت درکار ہے۔ اگر یہ موقف حاصل نہ ہو تو دوسری کوئی بھی تدبیر کسی ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لئے کارگر نہیں ہو سکتی۔ ۲۶ جولائی ۱۹۹۳ ایک تعلیم یافتہ مسلمان ملاقات کے لئے آئے۔ وہ میرے پیروں کے پاس بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا کہ میں خود کشی کرنے والا تھا۔ اسی زمانہ میں اتفاق سے مجھے الرسالہ ملا۔ الرسالہ پڑھ کر میں نے نئی زندگی حاصل کی۔ میں آپ کو اپنا محسن سمجھتا ہوں اور آپ کی قدم بوسی کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ اسلام میں قدم بوسی نہیں ہے بلکہ دعا ہے۔ آپ میرے لئے دعا فرمائیں ۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے مسلمان آپ کو ہندوؤں کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ میں ان کو جواب دیتا ہوں کہ میں کیسے مانوں کہ وہ ہندوؤں کے ایجنٹ ہیں۔ ان کے الرسالہ نے تو مجھ کو اسلام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page