آغازِ کلام
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
ایجنٹ بنا دیا۔ آج میں اسلام کو مسلمانوں اور ہندوؤں میں پھیلا رہا ہوں۔ پھر میں کیسے مانوں کہ وہ ہندوؤں کے ایجنٹ ہیں۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص ہندوؤں کا ایجنٹ ہو اور لوگوں کو اسلام کا علمبردار بنائے ۔ ۲۷ جولائی ۱۹۹۳ اکبر صاحب انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی میں استاذ ہیں۔ وہ بوسنیا گئے تاکہ وہاں کے حالات کا خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں۔ واپسی کے بعد انہوں نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ کس طرح آگ اور خون کا طوفان بپا کیا گیا ہے۔ مظالم کی تفصیلات بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ ایک نئی صلیبی جنگ ہے، آخری صلیبی جنگ؟ And I ask is this another Crusade. The last Crusade. اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ کروسیڈ ہے تو سوال یہ ہے کہ پہلی کروسیڈ میں تو مسلمان پوری طرح کامیاب ہوئے تھے، پھر دوسری کروسیڈ میں وہ کیوں مکمل طور پر ناکام ہو گئے۔ اس کا جواب یہ نہیں دیا جا سکتا کہ موجودہ ناکامی کا سبب تو پہلی کروسیڈ کے وقت بھی اہل مغرب کی سازش ہے ، کیوں کہ اہل مغرب نے تو پہلی کروسیڈ کے وقت بھی ہر قسم کی سازشیں کی تھیں جس طرح آج وہ کر رہے ہیں۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۳ مولانا خورشید احمد قاسمی میرٹھ کے مدرسہ امداد الاسلام میں استاذ تھے۔ دو سال پہلے وہاں کے منتظمین سے ان کا اختلاف ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ الرسالہ نے اس نازک موقع پر میری مدد کی۔ اگر میں الرسالہ کا قاری نہ ہوتا تو میں مدرسہ والوں سے ٹکرا جاتا۔ مگر الرسالہ میں نے جانا تھا کہ آدمی کے لئے ایک راستہ بند ہو تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ کیوں کہ عین اسی وقت دوسرا راستہ اس کے لئے کھلا ہوا ہوگا۔ انہوں نے مدرسہ کی ملازمت چھوڑ دی۔ اور طے کیا کہ اب کسی بھی مدرسہ کی ملازمت نہیں کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے کتابت سیکھنا شروع کر دیا۔ اب وہ میرٹھ کی ایک مسجد میں رہتے ہیں۔ انہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader